خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد ۱۲ 370 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء میں دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے گہرے اور کتنے وسیع مضامین بیان فرما دیئے ہیں۔اگر آج کا انسان صرف اسی نصیحت کو پکڑ کر بیٹھ جائے تو دنیا کی قوموں میں ایک حیرت انگیز انقلاب بر پا ہو جائے اور انسان حقیقت میں امن کی طرف قدم اٹھانے لگ جائے۔امن کا رستہ تو بہت لمبا ہے اور بھی بہت سی باتیں ہیں مگر اس ایک نصیحت پر عمل کرنے سے ہی دنیا میں امن کے قیام کے آثار ظاہر ہو سکتے ہیں۔مگر میں جانتا ہوں کہ اکثر ممالک میں یہ سننے اور سمجھنے کے باوجود ان باتوں کو قبول کرنے کا رجحان ہی نہیں پایا جاتا اور بڑی وجہ دہریت ہے۔جب اللہ کی ہستی پر یقین نہ رہے تو خود غرضی لائحہ عمل کو Dictate کراتی ہے اپنے آپ کو لکھواتی ہے جس طرح حکم لکھوائے جاتے ہیں اس طرح خود غرضی انسان کے لئے طرز زندگی مقرر کرتی چلی جاتی ہے اور ہر فیصلے کے موقع پر انسان جب خود غرضی کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ فیصلہ خدا کے قانون کے بھی مخالف ہوتا ہے اور ملک کے قوانین کے بھی مخالف ہوتا ہے اور اسی کا نام (Anarchy) انار کی ہے یعنی لاقانونیت کا ایک ایسا دور چل جاتا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں جو کچھ بھی آسکے وہ اس کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح بدامنی، اخلاقی بدامنی، قومی بدامنی ، گھر یلو بدامنی، بازار کی بدامنی ہر قسم کی بدامنیوں میں تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے۔فرمایا: وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ شیطان کے خطوات کی پیروی نہ کرنا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے فیصلے کے وقت جب آپ نے اپنے رزق کے متعلق سوچنا ہے کہ اس طرح لوں یا نہ لوں۔اس کو اپناؤں یا نہ اپناؤں شیطان کچھ وسوسے دل میں پیدا کرتا ہے اور ہر موقع پر سوچ کا ایک امتحان ہوتا ہے۔یہ باتیں از خود نہیں ہوا کرتیں یہ وہ مضمون ہے جس پر آپ غور کریں تو اپنی زندگی کے تمام فیصلوں کے وقت آپ کو دکھائی دے گا کہ آپ کے سامنے دوراہیں تھیں۔ایک وہ راہ تھی جو شیطان نے دکھائی تھی اور شیطان نے بتایا تھا کہ یوں کرو تو یہ ہوگا اور وہ لوگ جو شیطان کی بات سننے لگ جاتے ہیں شیطان ان سے زیادہ باتیں کرتا ہے وہ لوگ جو اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ ان سے زیادہ باتیں کرتے ہیں تو بعض لوگ صرف خُطُوتِ الشَّيْطن ہی کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔جو بھی وسوسے، خیالات ،سوچ کی غلط راہیں ، جھوٹی چالاکیاں، دوسروں کی دولت لوٹنے کے گھٹیا، کمینے طریق، دوسروں کے مال پر ہاتھ ڈالنے کے قومی دولت کو اپنانے کے یہ ان کو ہر وقت دماغ میں آتے رہتے ہیں۔صبح اٹھتے ہیں تو ایسے خیالات کے ساتھ اٹھتے ہیں۔سارا دن سوچتے رہتے