خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد ۱۲ 369 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء جاتے ہیں۔امریکہ جیسے امیر ملک میں تھوڑے تھوڑے پیسوں کے لئے قتل و غارت کا سلسلہ اس قدر شدت کے ساتھ جاری ہے کہ انسان دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے بعض آدمیوں کو دس ڈالر کے لئے قتل کیا گیا یعنی پہلے مارا گیا اور پھر دیکھا گیا کہ اس کی جیب میں تھا کیا تو دس ڈالر نکلے۔جب میں 78ء میں امریکہ گیا ہوں تو مجھے ایک احمدی دوست نے مشورہ دیا کہ آپ اپنے پاس پیسے ضرور رکھا کریں اور صرف کارڈ پر یا چیک پر انحصار نہ کریں۔میں نے کہا کیوں؟ اس نے کہا کم از کم سود وسوڈالر ہونے چاہئیں۔اس لئے کہ انسان اتناMug ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی آپ پر حملہ ہوا تو آپ کے پاس پیسے ہوں گے فوراً نکال کر دے دیں کہ یہ لے لو ورنہ وہ مارنے کے بعد تلاشی لیتے ہیں۔بہر حال اس وقت اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک دعا کی ، اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا میں بیوی اور دو بچیوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔خطرناک سے خطر ناک جگہ بھی گیا اور اللہ کے فضل سے ہم کسی آزمائش میں نہیں پڑے لیکن خدا کا یہ سلوک ہر ایک کے ساتھ تو روز مرہ نہیں ہوا کرتا۔اس لئے کہ ہر شخص روز مرہ دعا کے ذریعہ اس طرح خدا کی پناہ مانگتا ہی نہیں ہے۔عام دستور یہی ہے کہ جب اقتصادی گراوٹ کے نتیجہ میں یہ ظلم کے رجحان ہوں اور یہ صورتحال پیدا ہو کہ انفرادی طور پر کسی طرح بھی اپنے معیار زندگی کو قائم رکھنے یا بلند کرنے کے لئے انسان ہر ظلم پر آمادہ ہو جاتا ہے تو سوسائٹی جرائم سے بھر جاتی ہے اور مضمون رزق حلال کے صرف ایک پہلو کا بیان ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو متنبہ فرمایا کہ دیکھور زق حلال کو معمولی نہ سمجھنا۔اگر تم یہ دستور بنا لو اور اپنے لئے ایک قانون مقرر کر لو کہ جو کھاؤ گے وہ حلال ہو گا اور یہاں حلال کی تعریف میں دنیا کے قوانین بھی آجاتے ہیں کیونکہ ایمان والوں کو مخاطب نہیں فرمایا گیا بلکہ الناس کو مخاطب فرمایا گیا ہے یہاں صرف الہی قانون نہیں ہے بلکہ دنیا کے قوانین بھی آجاتے ہیں۔فرمایا کہ رزق کمانے کے لئے قوانین نہ تو ڑنا۔ملکیت کے حقوق زبردستی اپنے ہاتھ میں نہ لے لینا۔جس ملک میں رہتے ہو جس معاشرے میں رہتے ہو، اس کے قواعد کی ،اس کے قوانین کی، اس کی روایات کی پیروی کرتے ہوئے جو کچھ بھی تمہیں نصیب ہوگا اگر وہ کھاؤ گے اور پھر اس میں سے طیب کو چن کر کھاؤ گے تو یہ رزق حلال بھی ہے اور رزق طیب بھی ہے، اس سے تمہاری روحانی اور اخلاقی قدروں کی بھی حفاظت ہوگی اور جسمانی قدروں کی بھی حفاظت ہوگی تو ایک آیت کے ایک حصہ