خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد ۱۲ 315 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء مائیں جب بچوں کو نصیحت کرتی ہیں اُس کا اور اثر ہوا کرتا ہے۔مقابلہ ایسے باپ جواکثر باہر رہتے ہیں اور بچوں سے براہ راست تعلق نہیں اُن کی نصیحت کا اور اثر ہوتا ہے، دوسرے رشتہ داروں کی نصیحت کا اور ہے ، گلی میں چلتے پھرتے کسی شخص کی نصیحت کا اور اثر ہے اور اثر میں کمی یا زیادتی کا مرکزی نقطہ رحمت میں کمی یا زیادتی ہے۔اگر ایک شخص میں محبت پائی جاتی ہو، پیار پایا جاتا ہو ، جو کسی شخص کو نصیحت کرے در د دل کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اس شخص کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اس کی تکلیف میں شامل ہو تو ایسا شخص اگر برائی میں اس طرح گھیرا گیا ہے کہ اُس کی نصیحت کو نہیں مان سکتا۔تب بھی اُس کے دل میں ایک زخم سا لگ جائے گا۔اُس کو ایک پریشانی سی لاحق ہو جائے گی کہ اُس نے مجھ سے نیک بات کہی تھی اور میں عمل نہیں کر سکتا۔یہ دکھ خود اُس کے لئے نصیحت بن جایا کرتا ہے۔آج نہیں تو کل اُس کے دل میں ضمیر کے کچو کے اتنا زخم پہنچا دیتے ہیں کہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا اور اُس کو لازما ان سے بچنے کے لئے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی پڑتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کے عہدیدار ہوں یا دوسرے جماعتی عہد یدار یا دوسری ذیلی تنظیموں کے نمائندے یا درکھیں خشک نصیحت بریکار چیز ہے اور خشک نصیحت بعض دفعہ فائدے کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہے، نفرتیں پیدا کر دیتی ہے۔اپنی نصیحت کو پہلے پہچانیں۔اُس کا تجزیہ کریں اور غور کریں کہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے بھی خدام الاحمدیہ کے مختلف عہدوں پر خدمت کرنے کا موقع ملا ہے مجھے یاد ہے کئی دفعہ مجھ سے بھی غلطی ہوا کرتی تھی۔کسی ایسے کو نصیحت کی خدام الاحمدیہ کی نمائندگی میں جو مر تبہے اور مقام میں اور عمر میں، میرے رشتہ داروں میں یا دوسرے، مجھ سے بڑا ہوتا تھا اور وہ اگر تحقیر سے دیکھ کر اُس کو رد کر دیتا تھا تو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس کا میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ خیال آتا تھا کہ اُس کو نیچا دکھایا جائے۔پکڑ کے کسی بڑے سے شکایت کر کے مجبور کیا جائے۔یہ خیال ایک باطل خیال ہوا کرتا تھا۔جوں جوں تجربہ بڑھا اور عمر بڑھی تو یہ احساس نمایاں طور پر پیدا ہونے لگا کہ وہ حالت ایک غفلت اور گناہ کی حالت تھی جس میں انسان نے اپنی نصیحت نہ سننے والے کے خلاف ایک قسم کی رعونت اختیار کی بظاہر اس کو رعونت کا طعنہ دیا مگر جب دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میں اس کا سر نیچا کر کے دکھاؤں گا۔یہ کون ہوتا ہے؟ نظام جماعت کی بات نہ مانے۔میں نمائندہ ہوں نظام کا ، اسے میری عزت کرنی چاہئے تھی۔وہیں نصیحت اثر سے بیکار ہو جائے گی اور آئندہ بھی اس میں کوئی پھل