خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد ۱۲ 314 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء دیئے گئے ہیں مختلف وقتوں میں اگر اُن کی آڈیو یا وڈیو کیسٹس حاصل کر کے تنظیموں کے ذریعے انتظام ہو کہ محض مسجد میں ہی اُن کو بلا کر نہ سنائی جائیں بلکہ کوشش کی جائے کہ مختلف ایسا گھروں میں انتظام ہو اور اُن کے سپرد یہ کام ہو کہ اپنے ماحول میں رہنے والے احمدیوں کو وہاں بلائیں اور اُن کو وہ دکھا دیں۔اگر سلیقے اور ترتیب کے ساتھ یہ کام ہو اور یہ تسلی ہو جائے کہ جماعت کی بھاری اکثریت ایک دفعہ خود خلیفہ وقت کی آواز میں نماز کی اہمیت کے متعلق خطبات کو سنتی ہے ، ان نصیحتوں سے واقف ہوتی ہے تو وہ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اُس کا ایک بہت نمایاں اثر ہوگا اور اُن کے کام آسان ہو جائیں گے۔دوسری بات اسی تعلق میں یہ ہے کہ خود اپنی ذات میں وہ باتیں پیدا کریں جن سے آپ کی نصیحت میں زیادہ طاقت پیدا ہو۔تمام تفصیلی محرکات تو میں بیان نہیں کرسکتا، وجوہات جن سے یہ طاقت پیدا ہوتی ہے۔لیکن ایک چیز جو میں بارہا بیان کر چکا ہوں اور وہ مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتی صلى الله۔ہے۔وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا رحمة للعلمین ہونا۔نصیحت کے لئے رحمت ضروری ہے کوئی نصیحت جو رحمت سے عاری ہو گی۔وہ اثر نہیں دکھا سکتی ہے۔بعض دفعہ قرآن کریم کی آیت پڑھتے ہوئے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کا کلام ہے مان تو لیتے ہیں مگر یہ بات ٹھیک دکھائی نہیں دیتی۔وہ بات یہ ہے کہ فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْری ( الاعلیٰ:۱۰) نصیحت کرضرور نصیحت فائدہ دے گی۔پس بعض لوگ سوچتے بھی ہوں گے مگر مجھ سے بھی کئی دفعہ پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم نے لکھا ہے سر ادب سے جھکتا ہے ضر ور صحیح ہوگا مگر ہم تو نصیحتیں کرتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دفعہ میں نے پہلے بھی ایسے لوگوں کو سمجھایا تھا یعنی خطبے کے ذریعے ، اب میں پھر سمجھتا ہوں کہ فَذَكِّرْ اِنْ نَفَعَتِ الذِّكْری میں خصوصیت سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا۔عام نصیحت نہیں ، مطلب یہ کہ ہر شخص کی نصیحت اثر نہیں دکھاتی۔بعض نصیحتوں سے لوگ بدکتے ہیں اور بھاگتے ہیں اور الٹی منافرت پیدا ہوتی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا اے محمد، اے میرے بندے ! جس نے مجھ سے تربیت کے انداز سیکھے ہیں، تو نصیحت کر میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ تیری نصیحت کبھی بریکار نہیں جائے گی۔اس لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت کا منبع رحمت تھی۔وہ نصیحت جو رحمت کے منبع سے پھوٹتی ہو وہ کبھی بیکار نہیں جاسکتی۔وقتی طور پر اگر بے اثر دکھائی بھی دے تو کچھ عرصے کے بعد اُس کا اثر ضرور ظاہر ہوگا۔