خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد ۱۲ 316 خطبه جمعه ۲۳ / اپریل ۱۹۹۳ء نہیں لگے گا کیونکہ وہاں اپنے نفس کی رعونت نے سراٹھالیا اور اس نصیحت پر قبضہ کر لیا ہے۔پس نصیحت رحمت سے باندھی جانی چاہئے ، اس کی جڑیں رحمت میں پیوستہ ہونی چاہئیں۔رحمت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی نصیحت سے تو غم پیدا ہو، غصہ پیدا نہ ہو اور قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، سیرت نبوی کا مطالعہ ہر پہلو سے کر کے دیکھیں ، اشارۃ بھی کہیں آپ کو ایک جگہ بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کا رد عمل یہ نظر نہیں آئے گا کہ آپ نے غصے اور تحقیر کے ساتھ نصیحت نہ سننے والوں کا بدلہ اتارنے کی تمنا کی ہو، اُن کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہو۔گہرے غم کا ذکر ملتا ہے اور اتنے الله گہرے غم کا قرآن کریم میں اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۴۰) اے محمد ! تو اپنے وجود کو ہلاک کرلے گا کہ اس غم میں کہ وہ ایمان نہیں لا رہے یہ ظالم۔پس نصیحت غیروں پر جن کی آنکھیں بند ہوں ، جن کے دلوں پر ، کانوں وغیرہ پر مہریں لگ چکی ہوں۔وہ بعض دفعہ نصیحت نہیں سنتے مگر اس لئے کہ نصیحت کے دروازے بند ہیں۔آنحضرت کی نصیحت کی کمزوری کی طرف اشارہ نہیں ہے۔بلکہ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ (البقره: ۸) کے مضمون نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ بعض کان نصیحت سننے کے لئے بند ہیں، بعض دل انہیں قبول کرنے کے لئے اندر سے اس طرح بند ہو گئے ہیں کہ آم عَلى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد (۲۵) گویا اُن کے دلوں کے اندر کچھ تالے تھے ، جو انہوں نے اوپر ڈال رکھے ہیں۔تو ایسی کیفیت والے لوگ مستفی ہوں گے لیکن مراد یہ نہیں ہے کہ نصیحت کا اثر نہیں۔نصیحت اُن رستوں سے داخل نہیں ہونے دی جاتی جو رستے نصیحت کے لئے مقرر فرمائے گئے ہیں۔پس نصیحت کا کوئی قصور نہیں مگر بنیادی بات جو میں سمجھانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر بھی نظر ڈالتے ہوئے بھی حضرت رسول اللہ لہ عیش میں نہیں آتے تھے۔نصیحت کی ہے، مقابل پر صرف یہ نہیں کہ اُس کو رد کیا گیا ہے بلکہ سخت سزادی گئی ہے، سخت اذیتیں پہنچائی گئی ہیں۔زبان سے بھی ، ہاتھ سے بھی اور دیگر ذرائع سے بھی شدید اذیت میں مبتلا کیا گیا ہے۔اس جرم میں کہ ہمیں کیوں نصیحت کی اور ہر ایسے موقع پر آنحضرت ﷺ کا ردعمل رحمت کا رد عمل تھا اور طائف کا واقعہ دیکھ لیجئے کہ طائف کے ایک سنگلاخ پہاڑی علاقے میں، جہاں تک میں سمجھتا ہوں جو چٹانوں کا پہاڑی علاقہ تھا۔آنحضرت یہ نصیحت کے لئے گئے اور جواب