خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد ۱۲ 251 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء میں آپ کی اطاعت کریں گی تو قرآن کریم نے اصول پیش فرما دیئے ہیں اور وقت کے امام کا کام ہے کہ وہ نظر رکھے اور جہاں جہاں کچھ برائیاں ایسی پیدا ہو رہی ہوں جو بظاہر دیکھنے میں اتنی اہم نہ ہوں لیکن ان کی جڑیں گہری ہوں اور بعض گہرے رجحانات پر اثر انداز ہونے لگ جائیں۔رجحانات کو گندا کر رہی ہوں۔ان پر نظر رکھے اور اُن کو روکے۔وہاں کوئی یہ کہے کہ بتاؤ۔قرآن کریم میں کہاں واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔کہاں حدیث میں لکھا ہوا ہے۔لکھا تو ہوا ہے مگر تمہیں دکھائی نہیں دے رہا۔وہ معروف کا لفظ ہے جو آج بھی ہماری بیعت میں داخل ہے کہ معروف میں میں اطاعت کروں گا یا معروف میں میں اطاعت کروں گی تو یہ جوٹوپی سر سے اترتی ہے اگر اتفاقا اتر جائے تو اور بات ہے۔پہلے اندر کے انسان کے تقویٰ کی ٹوپی اترتی ہے۔پہلے اس کا رجحان معاشرے کی طرف بدلتا ہے۔اپنی قدروں کی ناقدری کا احساس پہلے اٹھتا ہے پھر وہ ٹوپی اندر کی گندی ہواؤں سے اڑ جاتی ہے اور سر پر رکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔وہ شرم پہلے صرف گلیوں میں آتی ہے۔پھر مسجد میں بھی آجاتی ہے اور وہ عادت بن جاتی ہے۔باہر اس لئے ٹوپی پہن کر نہیں جاتے کہ ان کو خیال ہے کہ اگر ٹوپی پہنی ہو تو لوگ کہیں گے کہ یہ مولوی مزاج کا کوئی آدمی ہے اور جو جو حرکتیں ہم نے کرنی ہیں، یا جو اپنا مزاج بنا کر ہم پھرنا چاہتے ہیں اس مزاج کے خلاف ہے۔ہم لوگوں سے پتھر کر الگ ہو جائیں گے کہ یہ ٹوپی والا ہے اور واقعہ ٹوپی بڑی حفاظت کرتی ہے۔ٹوپی سے انسان بہت سی بدیوں سے اس وجہ سے بچتا ہے کہ لوگ آپ سے ان بدیوں کی توقع نہیں کرتے۔ٹوپی آپ کے مزاج کی تشخیص کر دیتی ہے اور تعیین کر دیتی ہے لیکن جہاں تک مسجد میں ٹوپی کا تعلق ہے اس کا تو ادب سے گہرا تعلق ہے۔میں ایسے نوجوان جانتا ہوں کہ جب ان کو کہا جاتا تھا کہ ٹوپی پہنو تو کہتے تھے، ثابت کرو کہاں حکم ہے۔کوئی ضروری نہیں ہے اور اپنے والد کے سامنے بغیر ٹوپی کے جاتے ہوئے ان کی جان نکلتی تھی۔وہاں جرات نہیں ہوتی تھی کہ دندناتے ننگے سر چلے جائیں اور جب مسجد میں روکتے تھے تو کہتے تھے کہ کوئی ضرورت نہیں۔یعنی خدا سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں باپ سے ڈرناضروری ہے اور باپ بھی وہ جو جلال والا باپ ہو۔یہ نہایت بیہودہ حرکتیں ہیں۔یہ بیہودہ بخشیں ہیں۔اگر تم ٹوپی اتار کر اس طرح دندناتے پھرو گے تو زبر دستی تو تم پر کوئی نہیں ہو سکے گی ، نہ امور عامہ کو اختیار، نہ خدام کو، نہ انصار کو ، جماعت کا کوئی نظام تمہیں سزا نہیں دے گا مگر تم اپنے آپ کو جو سزا دے رہے ہو۔تم نے جو بے ادبی کی راہ اختیار کر لی، وہ تمہیں سب برکتوں سے