خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 250
خطبات طاہر جلد ۱۲ 250 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء آپ کی نصیحت کے مطابق اسی ہوا پر چل پڑیں۔پس اچھی چیزیں دیں۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون:۹۷) کا مضمون ہے جو ہمیشہ ہمارے لئے راہنما رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برائی کو روکنا ہے تو اچھائی کے ذریعہ روکو۔اچھی چیز دو اور پھر بُرائی روکو۔خالی حکم چلاتے رہو کہ فلاں چیز چھوڑ دو۔فلاں چیز چھوڑ دو تو کوئی نہیں مانے گا۔ہر بُری چیز کے بدلے ایک اچھی چیز بناؤ۔ہر بُری عادت کے بدلے ایک اچھی عادت کا منصوبہ تیار کرو اور وہ اچھی عادت دے کر کہو کہ اب اس کو چھوڑ دو۔کوئی برا کھانا کھا رہا ہو اور آپ کہیں کہ چھوڑ و پرے یہ برا کھانا ہے تو کون چھوڑے گا۔ہاں اچھا کھانا ساتھ رکھ دیں گے اور کہیں گے کہ اب یہ برا کھانا چھوڑ وتو وہ شوق سے چھوڑے گا۔دوسری بات جو مجھے انہوں نے لکھی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر ادب اٹھ رہا ہے۔نئی نسلوں میں اپنی قدروں سے بھی ایک قسم کی بے اعتنائی سی پیدا ہورہی ہے اور یہ ایک عمومی بیماری ہے جو پھیلتی ہوئی اور بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔مثال انہوں نے اس کی یہ دی ہے کہ مسجد میں بنگے سر جانا ایک عام رواج بن رہا ہے۔اس سلسلہ میں یہاں تو میں نے بار بار توجہ دلائی ہے اور اللہ کے فضل سے انگلستان کی جونئی نسلیں ہیں ان میں بہت نمایاں فرق پڑا ہے۔پہلے نگے سر مساجد میں جانے کی جو عادت تھی اب وہ خدا کے فضل سے بہت کم رہ گئی ہے۔بہت معمولی رہ گئی ہے اور بالعموم آپ کو سب ٹوپیاں پہنے ہوئے نظر آئیں گے لیکن مجھے پتا لگا ہے کہ ربوہ کی مساجد میں بھی ، مسجد مبارک میں بھی کئی لوگ جو اسی طرح جاتے ہیں اور ان کو نصیحت کرو تو کہتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے کوئی بات نہیں اور بعض لوگ تو صرف اس لئے کہ بالوں کی مانگ نہ خراب ہو جائے۔انہوں نے جہاں جہاں جس طریقے سے چیر نکالے ہوئے ہیں وہ وہیں قائم رہیں۔ایسی بیہودہ عادت ہے۔یہاں صرف ٹوپی کا مسئلہ نہیں ہے کہ ٹوپی کس حد تک ضروری ہے۔یہ ایک اندرونی مرض ہے جس کا اظہار ہوا ہے۔اس بات کو نو جوان لوگ سمجھتے نہیں اور ان بحثوں میں پڑ جاتے ہیں کہ سو فیصدی ثابت کرو کہ ٹوپی نہیں پہنیں گے تو کتنا گناہ ہوگا اور کہاں لکھا ہوا ہے کہ اتنا گناہ ہو گا وغیرہ وغیرہ۔یہ بے وقوفی کی باتیں ہیں۔قرآن کریم نے جہاں معروف کا حکم دیا ہے اس معروف کے تابع یہ ساری باتیں آجاتی ہیں۔آنحضرت ﷺ سے عورتیں جب بیعت کرتی تھیں تو اُن سے معروف کا لفظ کہلوایا جا تا تھا کہ ہم معروف