خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد ۱۲ 252 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء محروم کر دے گی۔خدا کے حضور جھکنے کے لئے جس قسم کی عاجزانہ روح کی ضرورت ہے وہ روح باہر چھوڑ کر جا رہے ہو اور مسجد میں زینت لے کر نہیں جا رہے حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) اے لوگو مسجد میں زینت لے کر جایا کرو مسجد کی سب سے بڑی زینت تقویٰ ہے۔ادب ہے، حیاء ہے اور ٹوپی کا سر سے اترنا اس زینت کے بالکل برخلاف اور مخالفانہ بات ہے۔پس ان تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے اور ہماری فطرت میں جو بات داخل ہے اس کو مدنظر رکھنا چاہئے۔مغرب میں بعض دفعہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ٹوپی پہننا کیوں ضروری ہے۔ہم تو بڑوں کا ادب کرنے کی خاطر ٹوپی اتار دیتے ہیں۔چنانچہ یہ واقعہ درست ہے۔یہاں رواج ہے۔حج کے سامنے جائیں تو حج ٹوپی پہنتا ہے اور جو حاضر ہونے والے ہیں ان کو ٹوپی اتارنی پڑتی ہے۔انگریزی محاورہ ہے Hats off to you تمہارے ادب میں ہم ہیٹ اتارتے ہیں۔لیکن ٹوپی وقار کا نشان ضرور سمجھتے ہیں۔حج کو اجازت ہے ٹوپی پہنے کی بلکہ لازم ہے کہ پہن کر آئے جس کا مطلب ہے کہ اس کو ادب اور وقار کا مقام ملا ہے تو کم سے کم یو نہی سہی۔تم یوں سمجھا کرو کہ خدا کے دربار میں ہمیں عزت دی گئی ہے۔اللہ نے ہمیں وقار بخشا ہے۔خدا نے وقار بخشا ہو اور تم اتار کر پھینک دو یہ بھی تو بے ادبی ہے۔حج اگر ٹوپی اتار کر بیٹھے گا تو وہ قوم کی بے ادبی کر رہا ہے۔اس روایت کی بے ادبی کر رہا ہے جس نے اس کو وہ خاص وقار اور عزت کا اور افتخار کا مقام عطا کیا ہے۔پس مسجدوں میں ٹوپی پہن کر جانا سنت کے مطابق ہے۔اس کا ایک اندرونی روحانی رجحان سے تعلق ہے اس لئے اس کو رواج دیں۔بچوں کو چھوٹی چھوٹی ٹوپیاں بنا کر دیں۔ضروری تو نہیں کہ مہنگی ٹوپیاں ہی ہوں۔کپڑے کی ٹوپیاں ہی سہی مگر ادب کا ایک نشان ضرور ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ان چیزوں کی طرف بھی واپس لے کر آئے اور ان چیزوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اب چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے اور نصیحت کی چھوٹی چھوٹی بہت سی باتیں باقی ہیں۔انشاء اللہ آئندہ جمعہ یا اس کے بعد اس سلسلہ کو پھر شروع کریں گے۔السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکانہ۔خدا حافظ۔