خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 249

خطبات طاہر جلد ۱۲ 249 خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۹۳ء گاؤں میں چند دن ٹھہریں اور یہ اتنی زیادہ ہیں کہ تسلسل اس عرصہ میں ٹوٹے گا نہیں اور بھوک قائم رہے گی۔اس لئے اگر وہ اس قسم کی ۵۰ ۱۰۰ فلمیں منگوا لیں تو انشاء اللہ جب تک وہ گھوم کر واپس آئیں گی دوسرا نمبر جانا شروع ہو جائے گا اور اس طرح شوق کا جو تسلسل ہے وہ نہیں ٹوٹے گا۔ہمارے دیہات وغیرہ میں ان کا دیکھنا خاص طور پر بڑا ضروری ہے کیونکہ دیہاتی لوگوں کو خصوصیت سے یہ شوق ہوتا ہے کہ ایک چیز شروع کر دیں تو بس چل سو چل اور جہاں وہ ٹوٹ گئی وہاں بات ختم ، شوق بھی اتر گئے۔یہ مزاج کا فرق ہے صرف پاکستان کا نہیں باقی دنیا کے دیہات میں بھی غالباً یہی ہوگا۔مجھے یاد ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب غالباً میر حامد شاہ صاحب کا ذکر کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے لیکن ایک بزرگ صحابی کا ذکر کرتے تھے جو سیالکوٹ کے تھے اور ان کی عادت تھی کہ وہ دن میں ایک دفعہ خوب سیر ہو کر کھاتے تھے اور پانی اس طرح پیتے تھے کہ بیچ میں ذرا بھی انقطاع برداشت نہیں کرتے تھے۔چنانچہ چوہدری صاحب بتایا کرتے تھے کہ ماشکی کو حکم تھا کہ میں کٹورے سے منہ لگا کر پیتا ہوں تم پانی ڈالتے چلے جاؤ اور کہا کرتے تھے کہ ڈیک نہ ٹوٹے یعنی یہ جو مسلسل پانی اندر جا رہا ہے یہ ٹوٹے نہ ورنہ میری پیاس کا مزاختم ہو جائے گا۔پھر پینے کو دل ہی نہیں چاہے گا یہ جو بات ہے یہ ویسے سنت کے مطابق نہیں ہے۔یہ میں آپ کو بتا دوں۔آپ یہ نہ سمجھنا کہ اسی طرح ہی ہونی چاہئے۔آنحضرت ﷺ کی سنت یہ تھی کہ پانی ٹھہر ٹھہر کر پیتے تھے۔ڈیک تو ڑ تو ڑ کر پیتے تھے مگر میں بتا رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں یہ بعض عادتیں ہیں اور وہ ابھی تک جاری ہیں تو ان کی ویڈیولیسٹس کی ڈیک نہ ٹوٹنے دیں کیونکہ جہاں ٹوٹ گئی وہاں سلسلہ ہی ٹوٹ جائے گا۔کبھی مجھے ڈر ہوا تھا کہ میں باہر چلا گیا اور ایک دفعہ خطبہ کا تسلسل منقطع ہو گیا تو لوگوں نے آنا ہی پھر بند کر دینا ہے۔اس لئے قومی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض اقدامات اختیار کرنے ضروری ہوتے ہیں۔یہ اگر آپ جاری رکھیں گے اور ڈیک نہیں ٹوٹنے دیں گے تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ دوسری فلموں کے لئے جگہ ہی نہیں رہے گی۔باتوں کا ماحول بدل جائے گا۔جو انسانی ذوق ہیں ان کی اصلاح ہوگی اور ذوق ترقی کریں گے اور دوسری جو گھٹیا اور گندی فلمیں ہیں ان کی کوئی حقیقت سامنے نہیں رہے گی، بے معنی سی ہو جائیں گی تو ترتیب میں ایسے حکیمانہ انتظام ہونے چاہئیں کہ جہاں محض زور کی نصیحت اور سزا کے ڈنڈے کام نہ کر رہے ہوں بلکہ دل کی تمنائیں