خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد ۱۲ 144 خطبہ جمعہ ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء ہیں۔تو آپ کی محبت اور آپ کے پیارے نے دیکھیں کیسے معجزے دکھائے ہیں کیسا انقلاب برپا کیا ہے کہ وہ لوگ جن کے متعلق خطرہ تھا کہ غیر مسلموں کی مارکھا کر غیر مسلموں کی گود میں جہاں دنیا گنوا بیٹھے ہیں وہ دین بھی گنوا بیٹھیں یعنی بعض غیر مسلموں نے ان کی دنیا چھینی ان سے بھاگے تو جو گود میسر آئی وہ بھی غیر مسلموں کی اور انہوں نے دین چھینے کی کوشش کی تو جماعت احمدیہ کو اس خدمت کی توفیق مل رہی ہے کہ حضرت اقدس محمد ی ﷺ کے نام لیواؤں کے لئے اپنی جانیں بھی پیش کر رہی ہے اپنے اموال بھی پیش کر رہی ہے اور ان کو ہر قسم کے بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔اس ضمن میں ایک اور تحریک بھی کرنی چاہتا ہوں کہ چونکہ ان لوگوں کو ہتھیاروں کی شدید ضرورت ہے اور وردیوں وغیرہ کی اور بوٹوں کی اس قسم کی چیزوں کی بھی جو کچھ ہمیں یورپ سے میسر آتا ہے آرمی ڈپوز وغیرہ سے، ہم انشاء اللہ پہلے بھی بھیج رہے ہیں اور بھی لے کر بھجواتے رہیں گے لیکن ہتھیاروں کی سپلائی ہمارے بس میں نہیں ہے اور بعض ممالک میں وہ خلاف قانون بھی ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسے مسلمان ملک جہاں بعض احمدی فوج سے ریٹائر ڈ ہوئے ہوں اور جہاں حکومت کی ہمدردی اور حکومت کی Blessing بھی ان کو شامل ہو۔حکومت کے سائے تلے وہ آزادی کے ساتھ خدمت کر سکیں وہ ایسی پرائیویٹ ایسوسی ایشنز بنا ئیں جن میں بوسنیا کو ہتھیار مہیا کرنے کا پروگرام شامل ہو اور صرف اس میں احمدیوں کو مبر نہ بنائیں بلکہ غیر احمدی با اثر لوگوں کو بھی ممبر بنائیں یہ وقت ایسا نہیں کہ اس میں فرقوں کی تفریق کسی طرح بھی کام کی راہ میں حائل ہو۔آپ پہل کر جائیں یہی آپ کا ثواب کافی ہے لیکن کثرت سے اپنے غیر احمدی ہمدرد بھائیوں کو ساتھ ملائیں ایسی ایسوسی ایشن قائم کریں جو حکومتوں سے بھی رابطے کرے اور دوسرے ایسے ذرائع سے جو غیر حکومتی ذرائع ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے ہتھیار مل جایا کرتے ہیں۔ہتھیار لے کر پھر کوشش کریں کہ ان کو کسی طرح بوسنیا پہنچایا جائے یہ کام حکومت کی مدد سے ممکن ہے اور وسیع پیمانے پر ایسوسی ایشنز کے قیام کے ذریعہ یا مجالس کے قیام کے ذریعہ ایسا کیا جا سکتا ہے اور ضرور کرنا چاہئے۔ہمارے جو وفود جا رہے ہیں باہر بوسنیا سامان لے کر اُن کے متعلق میں پہلے ایک خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ جو حالات دیکھ کر آئے ہیں وہ لکھتے ہوئے بھی لکھتے ہیں کہ ہمیں پوری طرح لکھنے کی بھی طاقت نہیں ہے۔کیسی بے سروسامانی کی حالت ہے اور کس قدر بھیا نک مظالم کا نشانہ ان کو بنایا