خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 143

خطبات طاہر جلد ۱۲ 143 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء کہ صرف ۶۰ سے ہی رابطہ ہے۔کہتے ہیں کہ اس موقع پر انہوں نے ٹیلیویژن پر خطبہ بھی سنا اس کا ترجمہ بھی ساتھ ساتھ پیش کیا گیا ایک لیڈی ڈاکٹر تھیں ان میں سے وہ مسلسل روتی رہیں جب ان کو تشفی دی گئی تو انہوں نے کہا وطن سے دور آج آپ کو اس طرح اکٹھے دیکھا ہے تو اپنے گھر کی یاد آرہی ہے۔غنیمت ہے کہ آپ لوگ اس قدر پیار اور محبت سے سلوک کرنے والے ہمیں مل گئے۔ایک خاتوں لکھتی ہیں کہ ایک خاتون ملیں ان سے جب میں نے پیار کا سلوک کیا تو روتی رہیں، اتنا روئیں کہ جس طرح بھی میں نے کوشش کی سمجھانے کی ان کے آنسو نہیں تھمتے تھے۔کہتی کہ پھر میری چیخیں نکل گئیں اور میں نے روتے روتے ان کو سینہ سے لگا لیا پھر ان کے آنسو تھے پھر ان کو میری فکر پڑی تو بعض دفعہ نم کامداوانم سے ہی ہوتا ہے اور جتنا درد آپ ان کے لئے پیدا کریں گے اتنی ہی راحت ان کو پہنچے گی۔یہ لفظوں سے تسلی دینے کا وقت نہیں ہے بلکہ پیار اور محبت ان پر لنڈھانے کا وقت ہے اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق بخشے۔اس ضمن میں میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ خصوصاً یورپ کی جماعتیں مواخات کا نظام قائم کریں اور بعض خاندانوں کو بعض خاندان اپنا لیں اور پھر صرف یہ نہ ہو کہ جب جماعتی نظام میں ان کیلئے اکٹھے ہونے کا کوئی بندوبست کیا جائے تو اسی موقع پر رابطے ہوں بلکہ خاندان یہ ذمہ داری اُٹھا ئیں کہ فلاں فلاں خاندان ہمارا ہو گیا ہے۔ان لوگوں کو محبت کی بہت کمی ہے رہائش اور کھانے پینے کا انتظام تو ہو ہی رہا ہے، جیسا بھی ہے۔لیکن جس بات کو تر سے ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کا سارے کا سارا خاندان کٹ گیا ہے اکیلی عورت یا اکیلا مرد پہنچا ہوا ہے بعض بچے ہیں جن کا کوئی بھی نہیں رہا تو ضرورت ہے کہ انسانی ہمدردی سے ان کو سینے سے لگایا جائے۔ایک معمر خاتون نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ آپ ہماری خدمت تو کرتے ہیں مگر دعائیں کریں کہ ہمیں ہمارا بوسنیا واپس مل جائے ، ہم سے اب بوسنیا کی جدائی برداشت نہیں ہوتی۔دولیڈی ڈاکٹرز تھیں انہوں نے کہا کہ ہم تو صرف نام کے مسلمان تھے ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ اسلام کیا ہے۔یہ ہمارے لئے تسکین کا موجب ہے کہ ایک جماعت ایسی ہے جس کا مرکز جس کا خلیفہ ہمارے لئے بھی اسی طرح دردمند ہے جس طرح آپ لوگوں کی تکلیف سے ہوتا ہے اور ساری جماعت جو خدمت کر رہی ہے اس کے نتیجہ میں اب ہمیں اسلام پر فخر پیدا ہو گیا ہے ہم ان ملکوں میں شرماتے تھے پہلے اسلام سے۔اب ہم بڑے فخر سے ان لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہاں ہم مسلمان