خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد ۱۲ 127 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء اخلاص اور استقامت عطا فرمائی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر معمولی طور پر بنگال کی جماعت نے خدا کی راہ میں ثابت قدمی دکھائی ہے۔ایک احمدی خاتون کے متعلق مثلاً مجھے خط ملا کہ جب اُن کو خبر ملی۔اُن کا کوئی عزیز رشتہ دار کوئی تعلق والا وہاں نہیں تھا اور جب اُن کو پتا چلا کہ کتنے خوفناک حالات ہیں اور کس بُری طرح مارا پیٹا جا رہا ہے اور تقریباً ذبح کر کے لوگ چھوڑ گئے ہیں تو اُن کا پہلا رد عمل یہ تھا کہ بغیر کسی سے بات کئے فورا رکشا پکڑا اور کہا کہ میں کیوں محروم رہوں، میں وہاں پہنچوں گی اور میں بھی دفاع میں حصہ لوں گی۔چنانچہ جب وہ پہنچی ہیں تو وہاں سب ہنگامہ ختم ہو چکا تھا اور پہنچ کر انہوں نے وہاں لوگوں کو دیکھا۔کچھ زخمی تھے اور کچھ دوسرے انہوں نے کہا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو مار رہے تھے۔میں بھی تو اسی لئے آئی تھی ، تو اُن کو بتایا گیا کہ یہ سب معاملہ تو ختم ہو چکا ہے اب تو زخمی ہسپتال جا رہے ہیں جو آگئیں تھیں وہ کچھ ٹھنڈی ہوگئی ہیں اور کچھ ٹھنڈی کی جارہی ہیں۔تو بنگالی احمدیوں کا ذکر خیر اور اُن کی استقامت کا اور اخلاص کا ذکر خیر تاریخ احمدیت میں ہمیشہ کے لئے سنہری لفظوں سے محفوظ ہونا چاہئے اور جماعت کو جو اس کی جزا ملے گی ، وہ میں آپ کو اس آیت کے حوالے سے بتاتا ہوں کہ کیا کیا چیز وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور کما چکے ہیں اور آئندہ اس تجارت کے اور بھی بہت سے پھل انشاء اللہ تعالیٰ ان کو ملنے والے ہیں۔فرمایا۔تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ کاش تمہیں پتا ہوتا کہ اس میں تمہارے لئے کیا کیا بھلائیاں مضمر ہیں۔يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ پہلی جزاء یہ بتائی کہ تمہارے گناہ بخشے جائیں گے تو کتنی خوش نصیب وہ جماعت ہے جو استقامت کے ساتھ اُس ابتلاء سے گزر جائے جس کی جزا کے طور پر سب سے پہلا انعام یہ ہورہا ہے کہ کسی گناہ کے متعلق فکر نہ کرو تمہارے سارے گناہ ہم نے بخش دیئے ہیں وَيُدْخِلْكُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ اور خدا تعالیٰ تمہیں ایسی جنات میں داخل کرے گا جس میں نہریں بہتی ہوں اور سرسبزی اور شادابی دائمی ہو وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً اور بہت ہی تسکین بخش ، سکینت عطا کرنے والے گھر عطا کئے جائیں گے۔مساکن کا مطلب ہے، گھر لیکن مسکن کے اندر سکینت کا مضمون شامل ہے اور مساکن اس کی