خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 126
خطبات طاہر جلد ۱۲ 126 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء کہنے کو تو یہاں یہ ذکر نہیں کہ 4- بخشی بازار ڈھا کہ میں یہ ہوگا یا برہمن بڑیہ میں فلاں بات ہوگی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچے ہیں کہ خدا کی خاطر کیا کیا تکلیفیں اٹھائی جاتی ہیں وہ یہاں موجود ہیں اور اس کی جزا جو دی جاتی ہے وہ بھی ذکر ہے فرمایا تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ جو کچھ بھی مصیبتیں تم پر ٹوٹیں جو مظالم تم پر توڑے جائیں تم ثابت قدمی کے ساتھ اپنے اموال کی قربانی بھی پیش کرتے چلے جاتے ہو اور جانوں کی قربانی بھی پیش کرتے چلے جاتے ہو چنانچہ وہاں جس قسم کے ہولناک حالات پیدا کئے گئے ہیں، برہمن بڑیہ میں مثلاً اور 4۔بخشی بازارڈھا کہ میں ان حالات کے نتیجہ میں بڑے بڑے بہادروں کا بھی پتہ پانی ہوسکتا تھا اور بڑے بڑے دلیر کہلانے والے بھی خوفزدہ ہو سکتے تھے لیکن چھوٹے بچے کیا اور مرد کیا اور بڑے کیا سب نے صبر کا اور استقامت کا ایسا عظیم نمونہ دکھایا ہے۔اس دلیری کے ساتھ ان خوفوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھجکے بغیر اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے اور ظالموں نے ان کو اس طرح پیٹا ہے جس طرح کسی مٹی کے ڈھیر پر سوٹے برسائے جار ہے ہوں اور اف نہیں کی چیچنیں نہیں ماریں ،شور نہیں مچایا، منتیں نہیں کیں اور کسی قسم کی بھی کمزوری کا اظہار نہیں کیا۔ان میں جو بوڑھے تھے وہ بھی تقریباً جاں بلب ہو گئے اور جوان اور بچے جو تھے وہ بھی بہت بُری طرح پیٹے گئے۔بہت دردناک طریق پر ان کو مارا گیا یہاں تک کہ بعض دیکھنے والے غیر احمدیوں نے جب دیکھا تو بعد میں تعجب کا اظہار کیا کہ بیچ کس طرح گئے کیونکہ جس حال میں وہ چھوڑ کر گئے تھے بظاہر بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی لیکن بنگلہ دیش کی جماعت کی جو خوبی میں بیان کر رہا ہوں وہ ان کی بہادری ہے۔ذرہ بھر بھی انہوں نے وحشت نہیں دکھائی خوف کا اظہار نہیں کیا اور اللہ کے فضل سے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ خدا کی خاطر ان دکھوں کو برداشت کیا۔ان کے سامنے لمبے عرصہ کی قربانیوں کا پھل جو بخشی بازار کی عمارت کی صورت میں تھا اور اس میں مختلف قسم کا قیمتی فرنیچر بھی سجا ہوا تھا مختلف کمرے تھے، رہائش کی مختلف جگہیں بھی تھیں مسجد بہت خوبصورت سجائی گئی تھی۔بہت خرچ کیا گیا تھا لائبریری تھی جس میں قرآن کریم تمام دنیا کی نہیں تو بڑی بڑی زبانوں میں ترجمہ شدہ وہاں سجایا گیا تھا ان سب چیزوں کو اپنے سامنے آگ لگتے ، جلتے برباد ہوتے ہوئے بظاہر دیکھا لیکن قطعا واویلا نہیں کیا اور بعد میں بھی جو خط مجھے وہاں سے ملے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے اس جماعت کو غیر معمولی طور پر