خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد ۱۲ 128 خطبه جمعه ۱۲ار فروری ۱۹۹۳ء جمع ہے۔مسکن میں دراصل گھر کی تعریف کی گئی ہے گھر ہوتا ہی وہ ہے جہاں سکینت ہو۔اس لئے وہ لوگ جو اپنے گھروں کو جہنم بنا لیتے ہیں اور لڑائی جھگڑے، بدتمیزی، بداخلاقی اور اپنی بیویوں پر زیادتی کے نتیجہ میں یا بیویوں کی زیادتی کے نتیجہ میں ایک عذاب میں مبتلا ہیں اور گھر جانے کو دل نہیں چاہتا ان کے گھروں پر لفظ گھر تو بولا جا سکتا ہے لیکن مساکن کا لفظ استعمال نہیں ہوسکتا کیونکہ مسکن تو ہے ہی وہی جہاں انسان کو سکینت نصیب ہو پھر فرمایا۔طیبہ۔وہ صرف سکیت والے گھر نہیں ہیں۔وہاں بہت پاکیزہ کیتیں ہیں۔وہ گھر فِي جَنَّتِ عَدْنٍ “ ایسی جنتوں میں ہیں جو ہمیشہ ہمیش کی ہیں وہ کبھی اختتام کو نہیں پہنچیں گی۔پس جو احمدی گھر جلائے گئے یا لوٹے گئے یا جن جگہوں سے احمدیوں کو بے گھر کیا گیا ان کے لئے یہ ساری خوشخبریاں ہیں۔ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔پھر فرمایا وَأَخْرى تُحِبُّوْنَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اور کچھ اور بھی باتیں ہیں۔تُحِبُّونَهَا جن سے تم محبت رکھتے ہو۔فرمایا ہم تمہیں بخش دیں گے، تمہیں جنات میں داخل کریں گے تمہاری سب کمزوریاں دور ہو جائیں گی۔یہ ساری باتیں بیان فرما کر بعض لوگوں کے لئے یہ پیغام بھی دیا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی تو تم کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہو صرف آخرت کے وعدے تمہیں پوری طرح خوش نہیں کر سکتے اور یہ ایک طبعی بات ہے ایک انسان جن مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے ، بعض دفعہ بے اختیار دل چاہتا ہے کہ جس نے مصیبت ڈالی ہے وہ بھی تو دیکھے کہ ہمارے ساتھ کون ہے اس قسم کی ایک دردناک کیفیت سے گزرتے ہوئے ضیاء کی زندگی میں کہی ہوئی میری ایک نظم میں ایک یہ شعر بھی تھا کہ ے ہم نہ ہوں گے تو ہمیں کیا ؟ کوئی کل کیا دیکھے آج دکھلا جو دکھانا ہے دکھانے والے (کلام طاہر صفحہ ۱۷) ہم ایسی درد ناک حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ اگر یہ ظالم جو کچھ کر رہا ہے اسی طرح کرتا ہوا نکل گیا اور ہنستے ہوئے نکل گیا تو کل خدا ضرور اپنی نصرت کے نمونے جماعت کو دکھائے گا اور جماعت کے دشمنوں کی ذلت کے نظارے بھی دنیا کو دکھائے گا لیکن اگر ہماری ساری عمر اس طرح گزرگئی تو ہمیں کیا کل کوئی کیا دیکھے۔یقین تو ہے کہ تیرے وعدے پورے ہوں گے مگر آج دکھلا جو دکھانا ہے دکھانے والے