خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 998
خطبات طاہر جلد ۱۲ 998 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء ترک نہیں کیا جا سکتا۔کھانے کو تو ہم نے ترک کر دیا۔کچھ بھی پرواہ نہیں رہی۔سامنے سے اٹھا کر لے جایا جارہا ہے لیکن تجھے کیسے چھوڑیں؟ ایک لمحہ کے لئے بھی تیرے بغیر قرار نہیں آسکتا اور تجھ سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔عدم ترک صرف عدم ضرورت کی وجہ سے نہیں ہوتا۔محبت بھی ہے اور ضرورت بھی ہے۔دونوں چیزیں اکٹھی ہیں۔ایک طرف دل ہے کہ ایک پل بھی نہیں ٹھہرے گا، مجبور کر دے گا کہ ہر وقت تیرا ذکر کریں اور دوسری طرف اگر کسی کا دل نہ بھی چاہے تو پھر بھی خدا کے بغیر انسان رہ ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے۔خوراک کے بغیر کچھ عرصہ کے لئے رہ سکتا ہے۔لیکن اللہ کے فضل کے بغیر ایک لمحہ کے لئے بھی اسے کچھ نصیب نہیں ہو سکتا۔اس کا اپنا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔امر واقعہ یہ ہے انسان کی زندگی میں خود اس کے اندر جو کارخانہ جاری رہتا ہے اسے باریک نظر سے آپ دیکھیں تو ورطہ حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ ایک ایک لمحہ خدا کی خاص حفاظت کا نظام جاری ہے ورنہ انسان کے کل پروزوں میں سے چھوٹے سے چھوٹے بھی کروڑ ہا ایسے پرزے ہیں جن میں سے ایک بھی اگر وقت پر اپنا کام کرنا بند کر دے تو انسان کا سارا وجود یک دم مٹ جائے اور ان کی حفاظت کا ایک مستقل انتظام خاموشی کے ساتھ ہمارے اندر جاری ہے تو کھانا اٹھاتے وقت اس سے بہتر دعا اور کوئی نہیں کی جاسکتی تھی اے خدا ہمیں تو ہر وقت تیری ضرورت ہے۔ایک لمحہ بھی تجھ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔محبت کرنے والوں کو بھی تیری ضرورت ہے اور محبت نہ کرنے والے بھی تیرے ہی سہارے جیتے ہیں۔پس ہم پر ہمیشہ پیار اور محبت کی حاجت روائی کی نظر رکھ۔اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اس لئے اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان تمام مجالس کو جو ذکر الہی کے لئے قائم کی جارہی ہیں ان سب کو قبول فرمائے اور اپنے فضل سے برکتیں نازل فرمائے۔قادیان کے اس اجتماع پر اسی طرح فرشتے نازل ہوں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ زمین سے آسمان تک تمام جو ان فرشتوں سے بھر گیا اور اسی طرح وہ درود اور سلام بھیجتے رہیں اور وہ قادیان کے جلسے کی خبریں اور ایسے دوسرے جلسہ کی خبریں لے کر آسمان کی طرف بلند ہوں اور قضاء وقدر یہ فیصلہ کرے کہ اللہ ان سب سے راضی ہو گیا۔اللہ نے ان سب کو بخش دیا۔ان کی خطائیں معاف فرما دیں اور اس جنت کی خبر ان کو دی جس جنت کے طلبگار ہیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔