خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 997 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 997

خطبات طاہر جلد ۱۲ 997 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء حدثنا ابو سعيد الاشج، اخبرنا حفص بن غياث و ابو خالد الاحمر عن حجاج بن ارطاة عن رياح بن عبيدة قال حفص ع ابن اخی سعید و قال ابو خالد عن مولى لابي سعيد عن ابی سعید قال: كان النبى اذا اكل او شرب قال الحمد لله صلى الله الذي اطعمنا وسقانا و جعلنا مسلمين (ترمذى كتاب الدعوات حدیث: ۳۳۷۹) حضرت ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ جب کھانا کھاتے اور پانی پیتے تو کہتے کہ سب تعریف خدا کے لئے ہے جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور پانی پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔اب دیکھیں کہاں امرؤ القیس کی وہ منزل جہاں مٹے ہوئے نشانات اسے اپنی محبوبہ کی یاد دلاتے ہیں اور کہاں انسانی زندگی کے ہرلمحہ کی ہر منزل جہاں ہر تجر بہ خدا کی طرف لے جاتا ہے لیکن یہ مٹتے ہوئے نشان نہیں بلکہ روشن تر ہوتے ہوئے نشانات ہیں جو خدا کی یاد کو انسانی دل میں زندہ کرتے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ عالم تھا کہ کھانا کھاتے تھے تو دعا کرتے تھے، پانی پیتے تھے تو دعا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ سبحان اللہ والحمد للہ۔کہ سب تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔پھر حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ے جب غزوہ میں شامل ہوتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ تو ہی میرا بازو ہے اور تو ہی میرا مددگار ہے اور تیری ہی مدد سے میں لڑتا ہوں یعنی جنگ کی حالت میں بھی آپ اللہ کو یاد کرتے اور یا درکھتے تھے۔حضرت ابی امامہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آگے سے دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ یہ ذکر کرتے تھے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بہت زیادہ تعریفیں ، بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی۔اے خدا تجھے ترک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی تجھ سے بے نیاز ہو سکتے ہیں۔یہ بہت ہی گہری دعا ہے اور موقع ومحل کے لحاظ سے نہایت ہی شان سے پوری اتر رہی ہے۔کھانا اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب طبیعتیں سیر ہو جاتی ہیں کچھ عرصہ کے لئے انسان بے نیاز ہی نہیں ہو جاتا بلکہ دوبارہ کھانا پیش کرنے پر غصہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ اب دفعہ بھی ہو اب اس چیز کو اٹھا کر لے جاؤ۔مجھے اب کوئی حاجت نہیں رہی۔دنیا کی حاجت روائیاں بعض دفعہ اس طرح انسان کو سیر کر جاتی ہیں کہ اپنی محبوب چیز سے پوری طرح لذت اٹھانے کے بعد وہ کچھ دیر کے بعد اس کی کوئی قدر دل میں نہیں رکھتا۔ایسے وقت میں آنحضرت نے یہ دعا کرتے ہیں، حیرت انگیز حکمت کے مالک تھے، نا قابل بیان عرفان آپ کو عطا فر مایا گیا ہے۔دعا کرتے ہیں کہ بہت تعریفیں اور برکتیں تیری ذات کے لئے ہوں کہ تجھے