خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد ۱۱ 92 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء جو تجارت کرنے کے لئے ہم تمہیں ہدایت دے رہے ہیں وہ تجارت کرو۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرما تا ہے کہ وہ نصرت اور فتح ضرور عطا فرمائے گا اور یہ یقین دلانے کے لئے فتح کو قریب لا کر دکھایا گیا کہ اگر چہ آخری زمانہ میں فتح دور دکھائی دے گی اور بظاہر ناممکن ہوگا کہ کوئی ایک نسل اپنی آنکھوں سے اس فتح کو دیکھ لے لیکن اگر اس تجارت میں مگن ہو جائے جس تجارت کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ اس فتح کو قریب کیا جائے گا۔وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ مومنوں کو بشارت دو اعلان عام کر دو کہ خدا کے فضل کے ساتھ یہ ساری نعمتیں تمہیں عطا ہونے والی ہیں۔اس کے بعد فرماتا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ۔جس تجارت کا ذکر گزرا ہے اس تجارت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دو۔كُونُوا اَنْصَارَ الله تم خدا سے نصرت چاہتے ہو تو خدا کی نصرت تو کرو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ نصرت کے لئے خدا کے حضور حاضر کرد و یعنی اپنی سب طاقتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نصرت کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری نصرت فرمائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسان اپنی ساری زندگی کے روز مرہ تجربہ میں دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے اگر کوئی شخص اپنا سب کچھ آپ کے حضور پیش کر دے تو فطری تقاضا ہے کہ آپ اپنا سب کچھ اس کو پیش کرنا چاہیں لیکن جب میں فطری تقاضا کہتا ہوں تو مرادان لوگوں کا فطری تقاضا ہے جن کی فطرت سلیم ہو ، جن کی فطرت پر میل نہ پڑ گئی ہو، جو وہی فطرت رکھتے ہوں جس فطرت پر پیدا کئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر انسان کو صحیح کچی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر انسان کو پیدا کیا ہے۔پس یہ جو مضمون ہے کہ اللہ کی فطرت پر انسان پیدا کئے گئے اس مضمون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر آپ کی فطرت صحیح ہو اور اس میں دنیا کی ملونی کی وجہ سے گندگی شامل نہ ہو گئی ہو تو خدا تعالیٰ آپ سے جو سلوک کرے گا اسے پہچاننے کے لئے اپنے نفس کو پہچانیں۔جو سلوک آپ خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں یہ دیکھیں کہ آپ وہ سلوک لوگوں سے کس صورت میں کیا کرتے ہیں اور لوگ وہ سلوک آپ سے کب کیا کرتے ہیں۔پس اپنے نفس کو پہچاننے کے ذریعہ تم خدا کو پہچان سکو گے اور خدا تعالیٰ سے تعلقات کو درست کر سکو گے۔پس یہ وہی مضمون ہے جو بیان فرمایا گیا پہلے فرمایا کہ نصرت تمہیں ضرور عطا ہوگی اگر تم وہ تجارت کرو جس کی طرف تمہیں بلایا جارہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا گیا کہ اس تجارت کے لئے شرط ہے کہ خدا کی خاطر مسیح کے انصار بنو۔جو لفظی ترجمہ ہے وہ یہ ہے مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللهِ کہ اللہ کے