خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 93
خطبات طاہر جلدا 93 خطبہ جمعہ سے فروری ۱۹۹۲ء مسیح نے کہا کہ کون ہے جو میرے انصار بنیں اللہ کے لئے۔تو مراد یہ ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح جو مسیح مہدی ہو گا۔حضرت محمد مصطفی ماہ کے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کرنے کے لئے آئے گا تمہیں اس کا انصار ہونا پڑے گا اور انصار بھی دل و جان کے ساتھ جو کچھ تمہارے حضور ہے، تمہارے پاس ہے اس کے حضور حاضر کرنا ہوگا اپنی جان کے تحفے بھی پیش کرنا ہوں گے۔اپنے اموال کے بھی تھے پیش کرنا ہوں گے اور دن رات بی گن لگانی ہوگی کہ ہم جس طرح بھی بس چلے اور جو کچھ بھی ہمارا اختیار ہے ہم نصرت دین کے لئے اپنے آپ کو ناصر بنادیں اور خدا کی راہ میں ہم جو کچھ بھی خدمت کر سکتے ہیں وہ بجالائیں۔انصار اللہ میں ایک دائمی حالت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اگر نصرت طلب کی جائے تو نصرت وقتی بھی ہو سکتی ہے لیکن مسیح ناصری کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے وقتی نصرت طلب نہیں کی تھی۔چند قربانیوں کی طرف نہیں بلایا تھا اُس نے کہا تھا کہ۔مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ کون ہے جو اللہ کی خاطر میرا مددگار بنتا ہے اور یہاں انصار سے مراد ہے ساری زندگی کے لئے مددگار بنارہنا کسی عارضی مدد کے لئے پیش نہ کرنا بلکہ ہمیشہ کے لئے خادموں کی فہرست میں شامل ہو جانا۔چنانچہ اس مضمون کو سمجھتے ہوئے انہوں نے یہی جواب دیا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ ان کے جواب میں یہ نہیں تھا کہ ہاں ہم اللہ کے لئے تیرے مددگار بنتے ہیں بلکہ وہ اس مضمون کو خوب سمجھ گئے تھے کہ مسیح کا مددگار بننا اور اللہ کا مددگار بننا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس مسیح نے تو خوب وضاحت کر دی کہ اللہ کی خاطر میرے مددگار بنو۔جواب میں انہوں نے کہا نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ۔ہاں ہم حاضر ہیں ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہمیشہ اللہ کے مددگار رہیں گے تو مضمون ایک ہی ہے لیکن اختصار کے ساتھ بیان فرمایا گیا اور یہ بتایا گیا کہ دونوں باتیں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس مسیح مہدی کے انصار بننا اور اللہ کے انصار بنا یہ دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔فرمایا کہ جب تم تجارت کرو گے اور اس رنگ میں تجارت کرو گے تو پھر یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ ضرور تمہارا مددگار ہوگا اور وہ فتح جو تمہیں دور دکھائی دیتی ہے وہ تمہارے قریب لائی جائے گی۔یہ وہ مضمون ہے جسے جماعت احمدیہ کو خوب اچھی طرح سمجھ کر اس پر عمل درآمد کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اس کے بغیر ہم اگلی سورۃ میں دی گئی خوشخبری کے اہل نہیں ہوسکیں گے اور وہ سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ مسیح محمدی