خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 91

خطبات طاہر جلد ۱۱ 91 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء اور کل کسی نے باہر نکال دیا بلکہ ایسا گھر ہے جو بینگی کا ہے اور کوئی اس میں سے تمہیں باہر نہیں نکال سکے گا۔ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظيم اسے کہتے ہیں عظیم کا میابی یعنی یہ مقصد حاصل ہو جائے کہ انسان کے گناہ بخشے جائیں، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اسے ہمیشگی کی جنتیں عطا ہو جائیں تو اس کا نام فوز عظیم ہے۔یہ فوائد ہیں جو اس تجارت سے ہیں جس کا اوپر ذکر کیا گیا لیکن ان فوائد کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے سے ہے۔یعنی آخرت سے ہے۔دور کے فوائد ہیں اگر چہ وہ دور ہر انسان کے قریب بھی ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ کس وقت وہ مرکز خدا کے حضور حاضر ہو جائے گالیکن جولوگ اس دور میں مگن رہتے ہیں ان کو وہ دنیا جو مرنے کے بعد نصیب ہوتی ہے بہت دور دکھائی دیتی ہے۔پس پہلے وہ فوائد بیان کئے جو حقیقی ہیں، جو اصلی ہیں جو لا زما نصیب ہوں گے اور ہمیشہ کے لئے ہوں گے اور اولیت ان ہی کو ملنی چاہئے لیکن پھر دنیا کے فوائد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تمہیں جو برکتیں اس جہاد سے نصیب ہوں گی وہ صرف مرنے کے بعد نہیں ہوں گی بلکہ اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے، اپنے جیتے جی تم اُن برکتوں کو دیکھ لو گے اور وہ کیا ہیں فرمایا: وَ أُخْرَى تُحِبُّونَهَا اور ایک دوسری بڑی کامیابی تم کو یہ نصیب ہو گی جو تم دل و جاں سے چاہتے ہو اس سے تمہیں محبت ہے یعنی نَصْرٌ مِنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِیب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں نصرت عطا ہوگی اور فتح تمہارے قریب لائی جائے گی۔وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اور اے محمدﷺ! مومنوں کو بشارت دے دو کہ ایسا ہوگا اور ضرور ہوکر رہے گا۔اب یہاں نَصْرُ مِنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی جو خوشخبری ہے اس کی تفصیل سورۃ النصر میں ہمیں یوں ملتی ہے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللهِ أَفْوَاجًان کہ وہ وقت یاد کرو جب تم خدا کی نصرت اور فتح کو دیکھو گے۔جب نصرت اور فتح تمہیں عطا کی جائے گی اور اس شکل میں کہ فوج در فوج لوگ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہوں گے اور فرمایا کہ مومنوں کو سب سے زیادہ اس چیز سے محبت ہے۔ہر وقت وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو کاش ہم اپنی آنکھوں سے فتح کا وہ دن دیکھ لیں تو فرمایا جس تجارت کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں اس تجارت کے دائمی فائدے تو ہیں ہی جو لازماً نصیب ہوں گے لیکن تم تو چاہتے ہو کہ مرنے سے پہلے فتح اور نصرت کا دن بھی دیکھ لو۔اگر یہی تمہاری تمنا ہے، اسی مقصد سے تمہیں دلی محبت ہے تو فرمایا