خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 914
خطبات طاہر جلدا 914 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء جلدی دنیا کی تقدیر بدلے گی۔دنیا کے حالات تو بہت ہی گندے ہیں لیکن افسوس ہے کہ لوگ نصیحتوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔امانتوں میں خیانت کرتے ہیں اور سوچتے نہیں کہ خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے اور کیسے جواب دیں گے۔بنگلہ دیش کے حالات آپ کے سامنے ہیں ان کے متعلق میں نے ایک خطبہ میں کھلم کھلا یہ اظہار کیا تھا کہ حکومت اس میں لازماً شامل ہے اور پوری ذمہ دار ہے اور یہ با قاعدہ ایک سازش کے نتیجہ میں ایسا ہوا ہے وہاں جب بعض لوگوں تک یہ بات پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت ہے۔ہم نے کہا ہم جو آپ کو بتا رہے ہیں کہ آئندہ کیا ہورہا ہے اور کس طرح ہونا ہے وہ خود ثبوت ہے، حکومت کا رد عمل ثبوت ہے لیکن اب ہمیں ایک ایسا ثبوت ملا ہے جو بالکل کھلم کھلا قطعیت کے ساتھ حکومت کے ملوث ہونے کو ثبوت کرتا ہے۔جماعت نے مختلف ممالک سے مختلف حکومتوں سے جو احتجاج کئے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ایک ملک سیاست کے دائرہ سے باہر جا کر وہاں ظلم کر رہا ہے جہاں سیاست کا کام ہی کوئی نہیں ہے اپنے دائرہ کار سے باہر ہو کر ظلم کر رہا ہے۔یونائٹڈ نیشنز کا کام ہے، تم لوگوں کا کام ہے کہ ان پر دباؤ ڈالو اور ان کو بتاؤ کہ اپنے دائرہ کار کے اندر رہیں اور وہاں بھی انصاف کا معاملہ کریں۔تو ایک بڑے ملک کے جو طاقتور ملک ہے اس کے وزیر اعظم نے اپنے ایک ممبر پارلیمنٹ کو ہمارے معاملہ میں جب اس نے ان کو توجہ دلائی تو جواباً لکھا کہ جو جو باتیں آپ نے بیان کی ہیں وہ درست ہیں اس کے علاوہ بھی انہوں نے بعض باتیں بیان کیں۔جماعت کو جو نقصان کی اور حملے کے طریق کی خبر تھی اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ ان کے اپنے ایمبیسیڈر وغیرہ یا جو بھی اس کام پر مقرر ہیں کی طرف سے ان کو اطلاع مل چکی تھی اور انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ وزیر مذہبی امور (جس کو مذہبی امور کا وزیر کہا جاتا ہے) لیکن دراصل وہ مذہبی فتنہ کا وزیر ہوتا ہے۔جہاں جہاں بھی مذہبی امور کے وزیر ہیں آپ بلا شبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہبی فتنہ پھیلانے کا وزیر ہے۔جہاں مذہبی فتنہ پھیلانے کی ضرورت نہ ہو وہاں مذہبی وزیر کی ہی ضرورت نہیں ہوا کرتی اور بڑا بد نصیب وہ شخص ہوتا ہے جس کو مذہبی وزیر کے طور پر مقرر کیا جائے اس کے سوا اس کی کوئی قیمت ہی نہیں کہ وہ فتنہ پھیلائے گا۔پس وہاں بھی فتنوں کے اس وزیر نے اس بیرونی حکومت کے وزیر اعظم کے بیان اور اقرار کے مطابق یہ اعتراف کیا ہے کہ ہاں حکومت نہ صرف ملوث ہے بلکہ حکومت ہی یہ فیصلے کر بیٹھی ہے کہ یوں ہم نے کرنا ہی کرنا