خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 915 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 915

خطبات طاہر جلد ۱۱ 915 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء ہے۔یعنی شروع سے تمام چال حکومت کی چلائی ہوئی ہے۔میں ان کو نصیحت کر سکتا ہوں کمزور انسان ہوں ایک ایسی جماعت کا سر براہ ہوں جس کا سر براہ سے بڑھ کر ایک ادنیٰ خادم ہوں اور اسی میں میری عزت ہے کہ میں جماعت کا خادم بن سکوں اس لئے میں جانتا ہوں کہ میری بات کا ان پر کسی قسم کا ایسا اثر نہیں پڑ سکتا کہ وہ جھک کر اُسے سنیں لیکن جو سچی اور نیکی کی بات ہوا سے جھک کر سننا خود سننے والے کے مفاد میں ہوتا ہے۔میرے پاس کوئی طاقت نہیں ہے جس کے زور سے میں یہ بات آپ کے دل میں جاگزیں کر سکوں مگر بنگلہ دیش کی موجودہ سربراہ کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ دور کی تاریخ نہیں قریب کی تاریخ پر نظر ڈال کر تو دیکھیں۔جن جن لوگوں نے احمدیت سے یہ سلوک کیا تھا ان کا کیا حشر ہوا اور کیا انجام ہوا اور کیا کہیں بھی احمدیت کا ادنی سا دخل بھی اس انجام میں تھا یعنی ظاہری طور پر احمدیت کی کوششوں سے کیا وہ اس بد انجام کو پہنچے ہیں جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہر گز نہیں۔احمدیوں کا اتنا دخل ضرور تھا کہ احمدیوں پر ظلم کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے خود اس کا انتقام لیا ہے اور آنے والوں کے لئے ایک نصیحت، ایک عبرت کا پیغام چھوڑ دیا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم سے بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔سب سے پہلے امیر فیصل کے ساتھ جو واقعہ ۱۹۷۳ء میں گزرا ہے وہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کی لاہور میں جب Summit کا نفرنس منعقد ہوئی ہے تو انہوں نے وہاں پوری طرح اس سازش میں شریک ہو کر جماعت کو غیر مسلم قرار دینے کی پوری حامی بھری اور پھر اس کے نتیجہ میں بھٹو صاحب کو یہ حوصلہ ہوا۔ان کا کیا انجام ہوا؟ کیا اس سے پہلے کبھی کسی سعودی سربراہ کا یہ انجام ہوا تھا ؟ ایک غیر معمولی انجام ہے۔کوئی عام انجام نہیں ہے۔پھر بھٹو صاحب کی باری آئی۔ان کو بھی میں نے ایک دفعہ ذاتی طور پر سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر نہیں سمجھے پتا نہیں کیسے دباؤ میں آگئے تھے اور وہ جس انجام کو پہنچے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔کیا حکومت پاکستان کے کسی سربراہ کا ایسا انجام ہوا ہے۔پھر ضیاء صاحب کی باری آئی۔ان کو میں نے اس طرح ذاتی تنبیہ نہ کی لیکن خطبہ کے ذریعے کھلے عام ساری دنیا کو سنا کر تنبیہ کی کہ دیکھو تاریخ اپنے آپ کو اس طرح ضرور ڈ ہرائے گی کہ خدا کے بندوں کے ساتھ جس نے ظلم کا سلوک کیا ہے خدا کی تقدیر اس کو خالی نہیں چھوڑے گی۔ضرور اسے عبرت کا نشان بنائے گی۔پس میں نے ان کو بتایا کہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے پھر یہ بتایا کہ یہ تاریخ اپنے آپ کو دُہرانے والی ہے۔