خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 913
خطبات طاہر جلدا 913 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء موقع پر ہی دم تو ڑ دیا اور دوسرے دو ساتھی زخمی ہوئے لیکن اللہ کے فضل سے ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔یہ شہید ہیں اول اس معنی میں کہ جو بھی مبلغ خدمت دین کے لئے باہر نکلتا ہے اور خدمت دین کی حالت میں جان دیتا ہے بلا شبہ وہ شہادت کا اعلیٰ درجہ حاصل کرتا ہے۔محض تلوار سے لڑنے والا شہید نہیں ہوا کرتا جو خدا کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر نہایت مصیبت کی حالت میں تنگی اور تکلیف کی حالت میں خدمت دین کے لئے مختلف میدانوں میں نکلتا ہے جس میدان میں اس پر موت آئے وہ یقیناً شہید شمار ہوگا لیکن پھر اس میدان کے اندر وہ وقت اور وہ سفر جس حالت میں انہوں نے جان دی ہے وہ خاص طور پر تبلیغ پر جانے والا سفر تھا۔ایک اور تیسری بات جو اس معاملہ میں ان کے مقام اور مرتبہ کو شہادتوں میں ایک نمایاں حیثیت دیتی ہے وہ یہ ہے کہ امیر صاحب نے گواہی لکھی ہے کہ ایک سال پہلے مجھے مبشر شہید نے یہ بات بتائی تھی کہ ان کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ مبشر صاحب کو کفن میں لپیٹ کر پاکستان لایا گیا ہے۔پس جو کچھ بھی تھا مقدر تھا۔ہم اس پر راضی ہیں ہمارا بہت پیارا محبت کرنے والا وجود بہت خدمت کرنے والا بھائی ہم سے جدا ہوا ہے بلکہ ایک نہیں دو بھائی آج جد اہوئے ہیں۔ان کی جدائی کا صدمہ تو ضرور ہے۔لیکن بات وہی کچی ہے جو ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے کہ بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر (در نشین صفحه: ۱۰۰) ان دو شہادتوں کو پیش نظر رکھ کر اپنی ذمہ داریوں کو پھر سمجھیں کہ جو شہید ہورہے ہیں وہ اپنے پیچھے ایک پیغام چھوڑ کر جارہے ہیں اور وہ پیغام یہ ہے کہ جب تک ہماری پیش گئی جب تک بس چلا ہم نے اپنی تمام طاقتیں اس راہ میں جھونک دی ہیں۔اب خدا نے ہمیں بلا لیا ہے تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ ہم مزید کچھ کر سکیں اے وہ جو پیچھے رہ جانے والے ہو! تم اپنے وقت کی قدر کرو۔دیکھو خدا نے تمہیں مزید خدمت کی توفیق بخشی ہے اپنی ہر طاقت کو اس میں جھونک دو تا کہ جس طرح میں مرتے وقت خدا سے راضی اور خدا مجھ سے راضی ہے تم بھی اس حالت میں جانیں دو کہ تم خدا سے راضی ہو اور خدا تم سے راضی ہو۔پس اس جذبہ کے ساتھ اگر جماعت دنیا میں کام کرے گی تو دیکھیں کہ کتنی جلدی