خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 910
خطبات طاہر جلد ۱۱ 910 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء ملانے کے لئے دوسرے گاؤں گئے۔اس کو علم تھا کہ جس جگہ کا یہ بتاتا ہے وہاں اس نام کا کوئی احمدی نہیں اس نے جب اس کو پکڑا تو اس نے کہا نہیں میں ساتھ کی ایک جگہ کا ہوں۔بہر حال اپنی معصومیت میں اور تبلیغ کے جوش میں اس سے کہا کہ ہاں پھر بھی آنا تو وہ دوبارہ اپنے ساتھ ایک اور شخص کو لے کر آیا۔رات کو انہوں نے بڑے خلوص اور محبت سے ان کے لئے چار پائیاں بچھائیں کھانے کا کہا انہوں نے کہا نہیں ابھی ٹھہر کر۔پھر ان دونوں نے ان کے ہاں پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور رات سوتے میں یعنی ایک دو گھنٹے کے بعد ہی سر پر اور چہرے پر پستول سے فائر کئے اور ان کے بچے پر بھی اور جب تک خون گرم تھا یہ اس کے پیچھے دروازے تک بھی بھاگے لیکن وہاں جاتے ہی گرے اور دم توڑ دیا لیکن جو زخمی بچہ تھاوہ بچ گیا ان کی اہلیہ بھی بڑی بہادر اور خدا کے فضل سے بالکل نڈر داعی الی اللہ ہیں ان کے بچوں کا بھی یہی حال ہے اس وقت والدہ نے بچے کو دوڑایا کہ ساتھ کے گاؤں میں جہاں ان بدبختوں میں سے ایک کو ساتھ لے کر گئے تھے جا کر اطلاع کرو۔جب اس بچے نے اطلاع دی تو وہ سارے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔تو شہید کا بیٹا انکو تسلی دلا رہا تھا کہتا ہے آپ کو کیا ہو گیا ہے میرا باپ تو نیک انجام کو پہنچا ہے بڑا بہادر آدمی تھا ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے خدا ہمارا والی ہے اور میری والدہ بھی اس معاملے میں بڑی خوش ہے کہ خدا کی چیز خدا کی امانت خدا کو پہنچی اور بہادری کے ساتھ وفا کے ساتھ اس نے سچائی پر جان دی ہے۔تو ایسے ایسے داعی الی اللہ بھی ہیں جو جان پر کھیل جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا جماعت میں تو انشاء اللہ شہیدوں کا کوئی بچہ یتیم نہیں رہ سکتا یتیمی کی تو فکر نہیں کیونکہ ساری جماعت اللہ تعالیٰ کی جماعت جس کی سر پرستی کر رہی ہو وہ یتیم کیسے ہوسکتا ہے لیکن اس بہادری کے باوجود پیاروں کی جدائی اور ایسے اچھے پیاروں کی جدائی کا جودُ کھ ہے وہ ایک دم تو نہیں مٹ سکتا بلکہ یسے دُکھ ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھ جایا کرتے ہیں ابھی چوٹ گرم ہے ابھی پتا نہیں لگ رہا وقت کے ساتھ ان کی جدائی کا احساس ان کی کمی کا احساس بڑھتار ہے گا۔وہ بھی اس وقت شاید براہ راست میرا خطبہ سُن رہے ہوں گے ربوہ والوں کی طرف سے اور دوسری جگہوں سے جو خط مل رہے ہیں ان خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بڑے شوق سے خطبوں میں حاضر ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ