خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 911
خطبات طاہر جلد ۱۱ 911 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء ہماری دیکھنے کی پیاس بجھ رہی ہے کچھ تو قرب کا احساس ہورہا ہے اس لئے اللہ کے فضل سے جماعت کی تربیت پر بھی بڑا فرق پڑ رہا ہے۔گھر گھر میں جہاں پہلے دوسرے پروگرام دیکھنے کے اڈے ہوا کرتے تھے اب پتا لگا ہے کہ لوگ شوق سے Antennas لگا رہے ہیں اور خاص ڈش لگا کر خطبوں میں خود بھی شامل ہوتے ہیں اور ساتھ کے ہمسایوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔بعض خاندانوں نے اپنے بعض گھروں میں خود Antennas لگائے ہوئے ہیں اور یہ رواج ساری دنیا میں چل پڑا ہے۔تو مجھے یقین ہے کہ وہ سامنے بیٹھے ہو نگے آج شاید ان کا جنازہ بھی ہو چکا ہو تو ان کو میں بہت ہی محبت بھر اسلام پہنچاتا ہوں اپنی طرف سے بھی اور ساری دنیا کی جماعت کی طرف سے بھی مبارک باد دیتا ہوں کہ اللہ نے بڑی سعادت بخشی ہے اور ایسی سعادت بخشی ہے کہ جس کے نتیجہ میں جدائی کا غم ہونے کے باوجود ایک خوشی اور تشکر کا احساس لازماً دل میں پیدا ہونا چاہئے بڑا خوش نصیب ہے انسان جواس شان کے ساتھ سر اُٹھاتے ہوئے خدا کی راہ میں اپنا سر دے دے اور اس کی بیوی بچے مبارک کے کتنے مستحق ہیں، کتنے حسین اخلاق کے مالک ہیں اس غم کے موقع پر صدمے کے موقع پر سعادت پر نظر رکھی ہے اور نقصان پر نہیں رکھی اور جو کچھ پایا ہے اس کے زیادہ ہونے کا احساس ہے جس نے ان کو اس وقت سہارا دیا ہے۔جو کھویا ہے اس کو معمولی سمجھنے لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے سارے کام خود بنائے ان کے سب بوجھ خود اُٹھائے ان کا والی اور ان کا حامی و ناصر ہو اور اس شہادت کو خدا تعالیٰ بہت پھول اور پھل لگائے۔چوہدری محمد علی صاحب کا ایک شعر ایسا ہے جو خدا کہ نیک بندوں کو پھول پھل لگنے سے تعلق رکھتا ہے۔وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے کہ پھولنا تھا اُسے برگ و بار دینا تھا (اشکوں کے چراغ صفحہ : ۱۴) تو احمدیت کا برگزیدہ شجر تو موسم سے لڑتا رہے گا۔ایک شاخ تراش لو گے ایک پھول تو ڈلو گے تو کیا اس شجر کو مار دو گے۔بہت جاہل ہو یہ تو وہ شجر ہے جو خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔یہ موسم سے اسی طرح لڑتا رہے گا۔یہ برگزیدہ شجر ہے اسے پھولنا ہے پھلنا ہے اسے برگ و بار دینا ہے اور دیتا چلا جائے گا۔پس امانت کا حق ادا کرنے والوں کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہماری جان بھی امانت ہے