خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 909
خطبات طاہر جلدا 909 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء اور بیداری پیدا کرنے کے لئے بہت سے طریقے ہیں جو اچھے اچھے کام کرنے والے لوگ ہیں ان کی مثالیں دی جائیں جیسا کہ میں نے ایک دو مثالیں انگلستان کی جماعت کی رکھی ہیں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جو دنیا میں پھیلی پڑی ہیں۔بہت اخلاص کے ساتھ افریقہ میں بھی اور امریکہ میں بھی اور یورپ اور ایشیاء کے ممالک میں بھی ایسے احمدی موجود ہیں جنہوں نے نہایت اعلیٰ نمونے دکھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ خدا نے جماعت کو صلاحیت عطا کی ہے۔یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیغام میں طاقت موجود ہے، پیغام میں جذب اور کشش موجود ہے اگر کوئی انسان کرنا چاہے تو ضرور کر کے دکھا سکتا ہے۔امریکہ میں نیو یارک کے احمدی بچے ہیں ان کے متعلق بھی میں نے شاید پہلے ذکر کیا ہے کہ نہیں مگر ان کی تبلیغ سے دن بدن ان کے ساتھی طلباء احمدی ہوتے چلے جارہے ہیں ایسے ایسے مخلص احمدی بن رہے ہیں کہ ان کے ماں باپ کے دباؤ ان کی سوسائٹی کے دباؤ لیکن انہوں نے کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کی۔اس ضمن میں آج ایک داعی الی اللہ کا ذکر آپ کے سامنے کرتا ہوں جن کی شہادت کی آج اطلاع ملی ہے۔گوجرنوالہ کے ہمارے ایک داعی الی اللہ تھے۔ان کا نام محمد اشرف صاحب مہر آف جلہن ضلع گوجرانوالہ ہے ۱۹۸۴ء میں یہ خود احمدی ہوئے نو جوانی کے عالم میں یعنی زیادہ عمر نہیں تھی اور بہت جلد احمدیت میں ترقی کی۔دعوت الی اللہ کا جنون تھا جو ان کے سر پر سوار تھا۔مجھ سے بہت گہرا ذاتی محبت کا تعلق تھا۔ہماری آپس میں خط و کتابت تھی اور بڑی دیر سے مجھے لکھ رہے تھے کہ میں تو جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہوں۔سارا علاقہ جان کا دشمن ہے اور خون کا پیاسا بنا ہوا ہے۔سوائے اپنے گھر کے یعنی میری بیوی اور بچوں کے برادری میں کوئی بھی میرا نہیں رہا مگر مجھے تو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہے میں تو اس کام میں مگن ہوں اور دن رات ان کا یہی پیشہ تھا۔ان کے اوپر کل رات نہایت ہی بزدلانہ اور کمینہ حملہ ہوا۔پیرا میڈیکل کوئی تنظیم ہے وہ چونکہ اس میں نائب قاصد تھے، ڈاکٹری کا کسی حد تک علم رکھتے تھے تو ایک نوجوان مریض بن کر آیا اور اس نے کہا کہ میں پھر دوبارہ آپ کے پاس آؤں گا۔وہ پھر اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر ان کے گھر آ گیا اور ایک آدمی کا جھوٹا پتا دیا اور ان کی حالت یہ تھی کہ کوئی ان کی بات سنے تو اس پر فدا ہو جایا کرتے تھے۔اس شخص نے اتنا کہا کہ میں بھی یعنی ایک قسم کا چھپا ہوا سا احمدی ہوں۔اسی پر وہ اس پر واری ہونے لگے ایک اور احمدی دوست سے