خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 880 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 880

خطبات طاہر جلدا 880 خطبہ جمعہ ۱۱ار دسمبر ۱۹۹۲ء سے فائدہ اٹھانے والے اولین بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کم ہیں جو نقصان اٹھاتے ہیں پھر وہ لوگ آ جاتے ہیں ان لوگوں کی منزل آتی ہے کہ جب ابتلاء ان کے دور سے گزرتا ہے تو وہ نیم دروں نیم بروں والی کیفیت کے لوگ ہیں۔دین سے تعلق بھی ہے اور پھر دوری بھی ہے۔خدا کو مانتے بھی ہیں اور فسق و فجور بھی ہے ایسے لوگوں کے لئے یہ ابتلاء بہت بڑی نصیحت کا پیغام لاتے ہیں اور بسا اوقات یہ سوئے ہوئے بیدار ہو جاتے ہیں پھر سچائی کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ابتلاء کا تیسرا درجہ وہ ہے جو مقاصد تو یہی رکھتا ہے لیکن ایسے بدنصیبوں پر آتا ہے جن کو ابتلاؤں سے فائدہ اُٹھانے کی صلاحیت نہیں رہتی۔اتنے ٹیڑھے ہو چکے ہیں اتنے بد ہو جاتے ہیں اپنے دلوں میں اپنے دماغوں میں کہ پھر ابتلا ء اکثر اوقات اُن کے لئے ہلاکت کے مناظر پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔شاذ ہی ہیں وہ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔اس اصولی تعلیم کو اور خدا کی اس تقدیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب ہم مسلمانوں کے ابتلاؤں کی موجودہ حالت پر غور کرتے ہیں تو یقیناً خدا کی کسی ناراضگی کا ہاتھ تو صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔یہ ویسا ابتلاء تو بہر حال نہیں یا ویسے ابتلاؤں کا دور تو بہر حال نہیں جو اولین کی تاریخ میں ہم نے دیکھا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں پر ابتلاؤں کے جو دور آئے تھے ان کی صورتیں تو ان ابتلاؤں سے بالکل مختلف تھیں۔سرسری نظر سے دیکھو تو کوئی بھی قدر مشترک دکھائی نہیں دیتی ، غور سے دیکھو تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی خیر کا ہاتھ ان ابتلاؤں میں بھی کارفرما ہے لیکن فائدہ اُٹھانے والے کم ہیں انہوں نے خیر کے پہلو کو ڈھانپ لیا ہے اور وہ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ بدوں نے اپنی بدی کے نتیجہ میں خیر کے پہلو کو دھندلا دیا ہے اور گدلا کر دیا ہے۔یہ وہ صورت ہے جو آج ظاہر صلى الله ہورہی ہے ورنہ ناممکن ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی قوم ایسے مصائب کا شکار ہوتی۔اب اجودھیا کی مسجد سے متعلق کچھ عرصے سے جو خبریں آرہی ہیں اُن کے نتیجہ میں دنیا کے کسی کونے میں کسی فرقے سے تعلق رکھنے والا مسلمان ہی کیوں نہ ہو ہر ایک کا دل خون ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خدا کی مدد کیوں نہیں آرہی۔کیوں اللہ تعالیٰ اس ابتلاء کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ساکھ کمزور ہونے دے رہا ہے اور دنیا کے سامنے ان کو بالکل بے بس اور نہتا کر کے دکھا رہا ہے۔اس بات پر غور کرتے ہوئے آپ کو سچائی کے ساتھ ، تقویٰ کے ساتھ صورت حال کا تجزیہ کرنا ہوگا۔