خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد ۱۱ 881 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء جہاں تک بابری مسجد کے منہدم کرنے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے گھر کو منہدم کر کے شرک کی آماجگاہ بنا دینا ایک بہت بڑا ظلم ہے لیکن خدا کی تقدیر بعض دفع اس ظلم کو اس لئے ہونے دیتی ہے اور برداشت کرتی ہے کہ اس دور کے لوگ اس بات کے اہل نہیں کہ خدا کی تقدیران کے حق میں اُٹھ کھڑی ہو اور ان کے حق میں غیر معمولی کرشمے دکھائے خدا کی عبادت کا سب سے معزز گھر وہ ہے جس کو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل نے از سر نو اپنے ہاتھوں سے کھڑا کیا اور دوبارہ اس کو ایک عبادت گاہ کی صورت میں اپنی محنت سے از سرنو مکمل کیا یعنی تھا تو پہلے ہی لیکن منہدم ہو چکا تھا، گر گیا تھا تعمیر نو چاہتا تھا۔پس وہ تعمیر نو خدا کے ایک برگزیدہ نبی اور اس کے ایک برگزیدہ نبی و بیٹے نے مل کر کی تھی۔وہ توحید کا مرکز تھا اور اس غرض سے قائم کیا گیا کہ تمام دنیا کو توحید کا پیغام پہنچائے لیکن آپ جانتے ہیں کہ کتنے سو سال تک وہ شرک کی آماجگاہ بنا رہا، کتنے بت تھے جو اس میں رکھے گئے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ہر دن کے لئے ایک الگ بُت وہاں نصب کیا گیا تھا یعنی سال میں جتنے دن ہیں اتنے ہی انواع واقسام کے بت وہاں گاڑ دیئے گئے تھے اور توحید کا مرکز شرک کا سب سے بڑا مرکز بنا دیا گیا تھا اور اس بات پر سینکڑوں سال گزر گئے اور بظاہر خدا کی غیرت جوش میں نہیں آئی اور بظاہر کوئی ایسی چیز دکھائی نہیں دیتی جس کے نتیجہ میں ہم سمجھتے ہوں کہ خدا تعالیٰ نے دوبارہ خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کے اس گھر کو عبادت کرنے والوں کے سپر د کر دیا ہو اور بتوں کو باہر نکال پھینکا ہو۔آگے بڑھتے ہیں تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا انقلاب آفریں دور آتا ہے جو قرآن کی اصطلاح میں ساعۃ تھی ، ایک قیامت تھی جو بر پا ہوگئی صدیوں کے مردے زندہ کئے گئے ، بہت تھے جوموت کے چنگل میں تھے ان کو موت کے چنگل سے رہائی بخشی گئی ایک عظیم روحانی انقلاب بر پا ہوا۔جب موحد پیدا ہوئے تو باوجود اس کے کہ مشرکین کو غیر معمولی طاقت حاصل تھی اور غیر معمولی غلبہ نصیب تھا ان کی طاقت اور غلبوں کے جال تو ڑ دئیے گئے ان کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا گیا اور اس گھر کو جو خدا کی وحدت کا، خدا کی توحید کا گھر تھا تو حید کا عالمی نشان تھا خدا کی عبادت کی خاطر قائم کیا گیا تھا ان بندوں کے سپرد کیا گیا جو موحد بندے تھے، جو تو حید کا حق ادا کرنا جانتے تھے ، جو عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے تھے اور عبادت کی خاطر محمد رسول اللہ اللہ نے خود ان کی پرورش فرمائی ، خود ان کو تربیت دی۔پس جب وہ موحدین دنیا میں آگئے جو اس گھر کے لائق تھے تو اس گھر کو غیر اللہ سے آزاد کرا دیا