خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 879
خطبات طاہر جلد ۱۱ 879 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۹۲ء وہ ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر ترقی کرتے ہیں۔ہر دکھ کے پیچھے خوشیاں ان کا انتظار کرتی ہیں اور باقی مومن جب اس ابتلاء کو دیکھتے ہیں تو ان کے حوصلے بڑھتے ہیں ، وہ پہلے سے بڑھ کر اپنے آپ کو ابتلاء کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ آمادہ پاتے ہیں اور کافروں کو بھی جو ابتلاء ملتے ہیں اور جو بعض دفعہ ان کو بالآخر صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں بعض دفعہ بہت بد حال میں چھوڑ دیتے ہیں۔ان کے اندر بھی خیر کا پہلو ضرور ہے اور قرآن کریم نے اس خیر کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم بار بار یہ اس لئے کرتے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی صاحب عقل ایسے ہوں جن کو بات سمجھ آ جائے ،شاید کچھ خوابیدہ لوگ بیدار ہو جائیں اور ساری قوم کو نہ ہی کچھ کو تو یہ ابتلاء فائدہ پہنچادیں اور بھٹکے ہوؤں کو خدا کے رستے پر واپس لے آئیں اور واقعہ یہ ہے کہ ایسے ابتلاؤں میں محض شر ہی نہیں جو کافروں کے لئے مقدر ہو، خیر کے پہلو بھی ہیں اور بہت سے ہیں (اگر چہ بہت زیادہ نہیں ) جوان ابتلاؤں سے فائدہ اُٹھا کر نصیحت پکڑتے ہیں اور سچائی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔تو یہ دراصل درجے ہیں اگر ان الہی جماعتوں کو ابتلا ء پیش ہوں جو بنیادی طور پر سچی ہیں لیکن فاسق ہو چکی ہیں اور خدا کے رستے سے ہٹ چکی ہیں تو ان ابتلاؤں میں سزا کا پہلو زیادہ دکھائی دیتا ہے اور نشو ونما کا کم دکھائی دیتا ہے لیکن تنبیہ کا پہلو بہر حال موجود ہے،نصیحت کا پہلو موجود ہے وہ لوگ جو خدا سے تعلق کاٹ لیتے ہیں ان کے ابتلاء میں سزا کا پہلو بہت نمایاں ہوتا ہے اور نصیحت کا پہلو کم دکھائی دیتا ہے اور وہ لوگ جو خدا کے خاص بندے ہیں خدا کی پیاری قو میں ہیں ان پر جب ابتلاء آتے ہیں تو ان میں خیر کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لیکن کچھ شر کا پہلو بھی موجود رہتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلاموں پر جب ابتلاء کے دور آئے تو محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی بہت بڑی تعداد ایسی تھی جو ثابت قدم رہے اور پہلے سے بڑھ کر بہتر حال میں وہ ابتلاؤں سے باہر نکلے اور سرتا پا خدا کی رضا پر ابتلاؤں کے دوران بھی راضی رہے لیکن کچھ کمزور ایسے تھے جو اس ابتلاء کو برداشت نہ کر کے سوکھے ہوئے پتوں کی طرح جھڑ گئے اور وہ ہمیشہ کے لئے ایمان بھی کھو بیٹھے، دنیا بھی جاتی رہی اور آخرت بھی جاتی رہی۔جب آپ ابتلاء کے مضمون پر اس طرح غور کریں تو درحقیقت معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی چیز ہے جو مختلف رستوں سے گزرتے ہوئے مختلف کیفیت اختیار کرتی چلی جاتی ہے اور درجے قائم ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس ابتلاء کی بنیاد وہی ہے کہ خدا کی رحمت ہے جو ابتلاء لے کر آتی ہے اس رحمت