خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 843
خطبات طاہر جلد ۱۱ 843 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء کسی وقت بھی کوئی رخنہ نہیں ہوتا۔اس پہلو سے جماعت کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کے لئے دعائیں کرتی رہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے ہمیشہ امانت دار ر کھے اور امانتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ خلیفہ کا یہ کام رہے گا کہ جماعت کو امانت کی طرف متوجہ کرتا رہے اور ایسا نظام قائم کرے اور ایسے نظام کی حفاظت کرے جس نظام میں صرف امین ہی پنپ سکتا ہے اور غیر امین کو اس میں جا کوئی نہ دے۔پس یہی کوشش ہے جو ہمیشہ خلفائے جماعت احمد یہ کرتے رہے اور اسی کوشش کا یہ ایک سلسلہ ہے جو خیانت اور اُس کے مقابل پر امانت سے متعلق جماعت کو مختلف پہلو سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔تیسرے درجے پر وہ امراء ہیں جن کی سپر د جماعتوں کی ذمہ داری کی جاتی ہے۔جہاں تک امراء کا تعلق ہے اُن کی حیثیت دو طرح سے ہے۔ایک حیثیت وہ ہے جس میں اُس علاقے کے عوام نے اس خیال سے اُن کومنتخب کیا کہ وہ امین ہیں اور ایک اس لحاظ سے کہ اُس انتخاب پر خلیفہ وقت نے صادکر دیا۔پس اگر چہ خدا تعالیٰ کے تقرر کے لحاظ سے واسطہ در واسطہ پڑ چکا لیکن جس خلیفہ کوخدا نے عملاً منتخب فرمایا اُس کا بھی صاد ہو گیا اور پوری عوام کا صاد بھی ہو گیا جن کی نمائندگی نے پہلے خلیفہ چنا تھا اس لئے امارت کو بھی ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور امین پر جو امانت کا بوجھ ڈالا جاتا ہے بڑا مقدس بوجھ ہے اور اسی تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ امراء کو اپنے فرائض سرانجام دینے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔بعض دفعہ بعض جاہل علاقوں میں عہدوں کو براہ راست عزت کا ذریعہ سمجھا جانے لگتا ہے اور جس طرح سیاست میں کسی منصب کو عزت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اُن جماعتی اور دینی عہدوں کو بھی بعض لوگ عزت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور عزت کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور عزت کے حصول کی خاطر عہدے سنبھالتے ہیں اور ان کے پیچھے بعض دفعہ اُن کے خاندان کے، اُن کے تعلق والوں کے جتھے بن جاتے ہیں۔اگر چہ جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلسل اس بات پر نگاہ رہتی ہے کہ کسی قسم کا کوئی پروپیگنڈا عہدوں کے انتخاب کے وقت نہ ہولیکن بعض دفعہ بغیر پروپیگنڈے کے بھی یعنی ایسے پروپیگنڈے کے بغیر بھی جو ذمہ دار عہدیداران کو سنائی دے عملاً پرو پیگنڈے کا رنگ ہوتا ہے۔بعض برادریاں بعض عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں، بعض