خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 844
خطبات طاہر جلد ۱۱ 844 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء دوستوں کے جتھے بعض عہدوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بظاہر ایک ایسے شخص کو امین بنایا جاتا ہے جس کو خدا کی جماعت نے منتخب کیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں نیتیں بھی بگڑ جائیں وہاں خواہ وہ انتخاب جماعت کا ہو یا خواہ اُس پر خلیفہ وقت صاد کر دے،اسے خدا کی تائید حاصل نہیں رہتی۔پس یہاں پہنچ کر مضمون ایک اور فضاء میں داخل ہو جاتا ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر عہدے دار جس کو جماعت نے چنا اور جس پر خلیفہ وقت نے صاد کیا، وہ عہدے دار ضرور تائید یافتہ ہے اور ضرور امین ہوگا۔جہاں تک خلیفہ وقت کا تعلق ہے اس مضمون پر حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت عمدہ روشنی ڈالی ہے۔جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک خلیفہ بھی تو غلطی کر سکتا ہے اور بھی کچھ باتیں اُس زمانے میں کی گئیں جو در اصل اہل پیغام کی طرف سے ایک مخفی پروپیگنڈے کی صورت میں جاری و ساری تھیں اور سوسائٹی میں پیشگوئیاں کی جا رہی تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے اس مضمون پر جو خطبات دیئے اُن میں اس حصے پر روشنی ڈالی۔آپ نے فرمایا دیکھو میں خدا کو جواب دہ ہوں اور تم لوگ مجھے جواب دہ ہو۔جب میرے علم میں تمہاری غلطی آتی ہے تو میں پکڑوں گا اور یہ نہ سمجھو کہ میں کسی پکڑ سے بالا ہوں۔جب خدا نے یہ سمجھا کہ میں اس لائق نہیں رہا تو وہ مجھے اٹھا سکتا ہے۔پس خدا کا عدل دنیا سے واپس بلا لینا ہے نا کہ اس دنیا میں کسی کو اختیار دینا کہ وہ خلیفہ وقت کو منصب سے ہٹا دے۔پس جہاں خدا تعالیٰ کی پکڑ ہے وہاں اور بھی امور ہیں جو کارفرما ہیں۔خدا تعالیٰ ضروری نہیں کہ ہر غلطی پر ایسی پکڑ کرے تو اُس کے نزدیک ایسے شخص کا بلانا ضروری ہو جائے۔نہ یہ مطلب ہے کہ ہر خلیفہ وقت جس کی موت واقع ہو اُس نے کوئی غلطی کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے واپس بلا لیا اس لئے یہاں غلطی سے اس مضمون میں اپنے دماغ میں الجھنیں نہ پیدا کر دیں۔ہر شخص نے مرنا ہے۔موت غلطی کی علامت نہیں ہے مگر یہ مضمون حضرت خلیفہ المسیح الاوّل بیان فرما ر ہے ہیں۔وہ یہ ہے کہ تم کسی خلیفہ کو معزول نہیں کر سکتے صرف خدا ہے جو معزول کر سکتا ہے اور خدا کا عدل یہ ہے کہ وہ اُس کو واپس بلانے کا فیصلہ کر لے گا۔پھر یہ معاملہ اُس کے ہاتھ میں ہے کیوں بلایا گیا ہے؟ دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کی نظر صرف کمزوریوں پر نہیں ہوتی بعض دوسرے پہلوؤں پر بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ وہ مہلت بھی دیتا ہے ،بخشش کا بھی سلوک فرماتا ہے اس لئے نہ بلانے کا بھی یہ مطلب نہیں بنتا کہ وہ شخص غلطی سے پاک ہے۔غلطیاں ہوسکتی ہیں اور استغفار کا