خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 842

خطبات طاہر جلدا 842 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۹۲ء بھی مختلف رنگ میں اس کی اہمیت ذہنوں میں اور دلوں میں اجاگر فرمائی۔امین سے متعلق جہاں تک دنیا کے معاملات کا تعلق ہے میں گزشتہ خطبوں میں کچھ گفتگو کر چکا ہوں۔اگر چہ مضمون وسیع ہے اور تھوڑے وقت میں اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا لیکن اور بھی بہت سی باتیں مجھے کہنی ہیں اس لئے اب میں اس کے دوسرے حصے کی طرف توجہ مبذول کرتا ہوں یعنی دینی معاملات میں امانت۔دینی معاملات میں سب سے زیادہ ذمہ داری تو انبیاء کی ہوتی ہے کیونکہ انہیں خدا تعالیٰ خود منتخب فرماتا ہے اور براہ راست منتخب فرماتا ہے اس لحاظ سے انبیاء کی ساری زندگی ڈرتے ڈرتے گزرتی ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ نبی سب سے زیادہ متقی ہے تو اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ سب سے زیادہ ہر وقت خدا کے خوف میں زندگی بسر کرنے والے ہوتے ہیں چنانچہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَتُفسكُم (الحجرات : ۱۴) اس آیت کے روشنی میں جب ہم اس مضمون کو دیکھتے ہیں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ عزت اُسی کو بخشی ہے جو خدا کے نزدیک سب سے زیادہ متقی تھا۔پس تقویٰ کی ایک حالت عہدے سے پہلے پائی جاتی ہے اور اس حالت کو مد نظر رکھ کر عہدہ دیا جاتا ہے اور ایک حالت عہدے کے بعد پیدا ہوتی ہے اور وہ حالت خوف کی حالت ہے کہ جس عہدے کو میرے سپر دفرمایا گیا ہے کیا میں اُس کا حق ادا کر سکتا ہوں یا نہیں؟ دوسرے حصے پر خلفاء کی ذمہ داری ہے جو انبیاء کے بعد اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتے ہیں کہ جو کام انبیاء نے کرنے تھے اُن کو جاری رکھیں اور اُن پر نظر رکھیں۔اُن کا انتخاب براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا مگر اُس جماعت کے وسیلے سے ہوتا ہے جس جماعت کو خدا تعالیٰ کے نبی تیار کرتے ہیں اور اُن کو امانت دار بنا کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔پس امانت کی بہت ہی بڑی اہمیت ہے جب تک وہ جماعت امین رہے گی جس کو خدا کے قائم کردہ خلیفہ نے خود تربیت دے کر امین بنایا تھا اُس وقت تک اُن کا انتخاب بھی بہترین ہوتا چلا جائے گا اور آنقكُم کا مضمون خلافت پر جاری و ساری رہے گا لیکن اگر اس جماعت کے تقویٰ میں فرق پڑ جائے تو لازماً اُس کا اثر اُن کے انتخاب پر بھی اثر انداز ہوگا اور دراصل خلیفہ اور جماعت ایک دوسرے کا آئینہ بن جاتے ہیں، ایک دوسرے کی تقویٰ کی تصویر ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسا مسلسل جاری وساری رابطہ ہے کہ اس میں