خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 808 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 808

خطبات طاہر جلد ۱۱ 808 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء جھوٹ ہے ،ایک نفس کا دھوکہ ہے ان کیلئے اس بنیادی عہد سے ا عہد سے بڑھ کر خدمت کرنا ضروری ہے۔ایسے موقعوں پر ان کے لئے شربت کا انتظام کرنا ، کھانا پیش کرنا اور سہولتیں مہیا کرنا اور اجرت سے بڑھ کر جو طے شدہ اجرت ہے اس سے بڑھ کر ادا کرنا یہ ہے جو امانت کا حق ادا کرنے والی بات ہے۔اس سے ورے ورے جتنی چیزیں ہیں اس میں کچھ نہ کچھ خیانت شامل ہو جاتی ہے اور خصوصاً اس معاملے میں احتیاط اس لئے ضرورت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ یہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایسے شخص کے ساتھ میں چلوں گا۔میں اس غریب کا وکیل بنوں گا جس سے محنت کروائی گئی ، جس سے پورا کام لیا گیا اور اس کا حق ادا نہیں کیا گیا۔تو جماعت احمدیہ کو اس حدیث کو ہمیشہ حرز جان بنا کر رکھنا چاہئے۔اس میں بہت گہرائی اور تفصیل کے ساتھ کئی بنیادی باتوں کا ذکر ہے اور دراصل اسی آیت کریمہ کی ایک تفسیر ہے۔يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ) (المومن :۲۰) کہ لوگ کئی قسم کی خیانتیں کرتے ہیں ان کی آنکھیں چیزیں دیکھتی ہیں اور خیانت کر جاتی ہیں۔اب اس مضمون کا یعنی مزدوری کے مضمون کا بھی آنکھوں سے ایک تعلق ہے۔اب مالک دیکھ رہا ہے کہ کس قسم کا کام کر رہے ہیں، وہ جانتا ہے کہ اسے اگر اس سے دس گنا بھی زیادہ پیسے دیئے جائیں تو اس کام پر آمادہ نہیں ہوگا اور اس کی آنکھ ضرور دل کو ایک پیغام پہنچاتی ہے لیکن اگر وہ دل پیغام قبول نہ کرے تب بھی خیانت لیکن خائن کی آنکھ جھوٹی ہو چکی ہوتی ہے یہ مضمون ہے۔عام صحیح فطرت والے کی آنکھ جو پیغام پہنچاتی ہے یہ اس پیغام کو قبول ہی نہیں کرتی اور رخنے ڈھونڈتی پھرتی ہے یہ خیانت کی آنکھ ہے۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے واقعہ ایسی صورت میں کہ سخت گرمی میں بڑی مصیبت میں خون پسینہ ایک کر کے مزدور محنت کرتا ہے ایک اینٹ ٹیڑھی کہیں رکھی جائے یا کوئی چیز گر کے ٹوٹ جائے، اس پر مالک یا دوسرے جو اس کو نوکر رکھتے ہیں ایسے ظالمانہ طور پر برستے ہیں کہ جیسے وہ خدا ہوں اور پوری طرح ہر چیز پر قدرت رکھتے ہوں لیکن خدا کی صفات حسنہ سے عاری ہوں۔جھوٹے خدا کی یہی تعریف ہے۔اپنے آپ کو مقتدر تو سمجھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ میرا قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے مگر خدا کی تمام صفات حسنہ سے عاری۔اس طرح سے سلوک کر رہے ہوتے ہیں۔اسی کا دوسرا نام فرعونیت ہے۔تو دیکھیں آنکھ نے ایک اور خیانت کی۔اچھی چیز کو نہیں دیکھا اور بری چیز پر نظر ڈالی اور وہیں نظر کو