خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 807
خطبات طاہر جلدا 807 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء تجارت ہورہی ہے غریب ملکوں سے عورتیں بھی خریدی جاتی ہیں، معصوم بچے بھی خریدے جاتے ہیں اور ہر طرح کے مظالم اس فرضی حق پر کئے جارہے ہیں کہ ہم نے پیسے دیئے اور اس کو خرید لیا۔اللہ تعالیٰ کا رسول فرماتا ہے یعنی خدا فرماتا ہے کہ انسان کی آزادی خدا کی عطا ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ اسے غلام بنا کر دوسروں کے پاس بیچے یہ سودا فاسد ہے جس نے اس کے پیسے کھائے اس نے بھی خیانت کی اور جس نے وہ خرید کر اپنی طرف سے غلام سمجھا اس نے بھی خیانت کی کیونکہ چوری کا مال آگے چاہے ہزار دفعہ بکے وہ چوری کا مال ہی رہے گا اور جس کے ہاں سے دستیاب ہوگا وہ بھی چور سمجھا جاتا ہے۔پس اس پہلو سے بہت ہی اہم مضمون ہے کہ تمام دنیا میں کسی انسان کو کسی دوسرے انسان کو غلام بنانے کا حق نہیں ہے یہ خدا کی طرف سے آزادی امانت ہے اور اس امانت میں خیانت کرنے کا کسی کو اختیار نہیں پھر فرمایا تیسری قسم کی بددیانتی یہ کرے کہ کسی مزدور کو اجرت پر رکھے اور پھر اس کا پورا حق ادانہ کرے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ جتنی اجرت طے ہو وہ نہ دے۔فرمایا استاجر اجیرا فاستوفى منه ولم يعطه اجره اس سے تو پورا پورا فائدہ اٹھا لیا اور اس کا جو حق ہے وہ ادا نہیں کیا۔اس دھو کے میں لوگ مبتلا نہ رہیں کہ جتنی اُجرت طے کر لی جائے اگر وہ دے دی جائے تو حق ادا ہو جاتا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ جب فاقے پڑتے ہیں، غریب ملکوں میں مصیبتیں حائل ہوتی ہیں تو وہاں حق اجرت کم ہو جایا کرتی ہے اور اس کو Exploitation کہا جاتا ہے، یعنی استحصال ہورہا ہے کسی کا تو اگر آپ کسی مزدور کواتنے پیسے دیں کہ جتنا اس نے آپ کا کام کیا ہے اس کا مناسب بدلہ نہ ہو تو قطع نظر اس کے کہ اگر آپ نے اس کو اپنے معاہدے کے مطابق پیسے دیئے ہیں یا نہیں آپ نے اس کا حق رکھ لیا ہے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ولم يعطه اجرہ ان معنوں میں کہ لیا تو اس سے پورا کام لیکن جو اس کو دیا اس کا حق نہیں بنتا تھا اور یہ فیصلہ انسانی فطرت کرتی ہے اور کرسکتی ہے ہر شریف النفس انسان جب کسی سے کام لیتا ہے تو اس کی فطرت کے اندر خدا تعالیٰ نے ایک پیمانہ رکھ دیا ہے جو ان باتوں کو جانچ لیتا ہے کہ جس قسم کی نیت کوئی شخص کر رہا ہے میں اس کا حق ادا کر بھی رہا ہوں کہ نہیں۔پاکستان میں مجھے یاد ہے سخت گرمیوں میں جب مزدور عمارتیں بناتے دیکھے جاتے تھے تو انتہائی تکلیف میں وقت گزار کر کڑکتی دھوپ میں وہ کام کیا کرتے تھے اگر رات، شام کو ان کو ڈھائی روپے دے دیئے جائیں جو اس زمانے میں مزدوری ہوتی تھی اور انسان سمجھے کہ حق ادا ہو گیا بالکل