خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 786
خطبات طاہر جلدا 786 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۹۲ء کارروائی مقامی احمدیوں نے نہیں کی اور خالصہ یکطرفہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا مگر بڑے صبر اور حو صلے کے ساتھ انہوں نے تکلیفیں اٹھا ئیں۔یہ سازش اس طرح بے نقاب ہوتی ہے ویسی تھی جیسے پہلے تھی کہ یکطرفہ ظالمانہ کارروائی کے باوجود جبکہ مقابل پر کوئی اشتعال انگیز کارروائی کسی قسم کی بھی نہیں ہوئی اچانک سارے ملک میں جہاں جہاں احمدی جماعتیں ہیں ان کے اوپر علماء چڑھ دوڑے اور برسر عام حکومت کو دھمکی دی کہ ہم ان کا قتل عام کریں گے ورنہ تم ہمارا مطالبہ تسلیم کرو اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دو۔بنگلہ دیش اور پاکستان میں ایک فرق ہے کہ وہاں کی سیاست نسبتاً زیادہ با ہوش ہے اور وہاں کے دانشور بھی نسبتاً زیادہ عقل رکھتے ہیں چنانچہ سوائے ایک آدھ ملاں کے اخبار کے تمام اخبارات نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے بھی اس کی بڑی سخت مذمت کی اور یہ جو ان کا خیال تھا کہ ایک ہوا چل پڑے گی یہ نہیں چل سکی اور حکومت اگر اس میں ملوث ہے جیسا کہ بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ ملوث ہے تو حکومت کو بھی ایسا موقع ہاتھ نہیں آیا کہ وہ اشتعال انگیزی کی تحریک میں شامل ہو جائے لیکن ایک حرکت حکومت نے یہ کی کہ اس واقعہ کے معاً بعد پاکستان کے بد ترین علماء جو شر پسندی میں شہرت رکھتے ہیں اور غلیظ گندی زبان بولنے میں ان کا شاید دنیا میں ثانی نہ ہو ان کو وہاں بلوایا گیا اور مکہ معظمہ سے بھی علماء کو بلایا گیا آخر اچانک تو یہ اکٹھے نہیں ہوئے یعنی ایک طرف ظلم کی کارروائی ہو رہی ہو دوسری طرف اس کی تائید میں مزید علماء کو باہر سے دعوت دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت اس میں لازماً ملوث ہے ورنہ دنیا کی کوئی شریف حکومت اپنے شہریوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے لئے باہر سے شر پسندوں کو دعوت نہیں دیا کرتی۔چنانچہ انہوں نے کھلم کھلا پھر اشتعال انگیزی کی اور عام تحریک کی اور جیسا کہ اس ڈرامے میں بالآخرتان اس بات پر ٹو ٹا کرتی ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دو ورنہ یہاں خون کی نہریں بہہ جائیں گی۔جہاں تک خون کی نہروں کا تعلق ہے جماعت احمد یہ بنگلہ دیش خدا کے فضل سے بڑی بہادر جماعت ہے، کمزور ہے لیکن دل کی کمزور نہیں اور ایمان بہت قوی ہیں چنانچہ مجھے بنگلہ دیش کے امیر صاحب کی طرف سے یہ یقین دہانی بار بار ملی ہے کہ آپ فکرمند ہیں، فکر کریں دعائیں بے شک کریں اور خطرات بھی بہت ہیں لیکن ہر ایک احمدی ایک چٹان کی طرح ثابت قدم ہے اور ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔وہ مضروب جن کو شدید تکلیف پہنچائی گئی اور بہت بری طرح زد و کوب کیا گیا ان میں سے ایک