خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 785
خطبات طاہر جلدا 785 خطبه جمعه ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء میں پھینکے ہوئے یا آدھے جلے ہوئے یا پورے جلے ہوئے اور ان کے عنوانات کے ساتھ پتا چلتا ہے یا جو تحریر میں اس کی پڑھی جاتی ہیں کہ یہ قرآن کریم ہیں۔یہ وحشیانہ حرکت جیسی پاکستان میں کی گئی تھی ویسی ہی بنگلہ دیش میں کی گئی لیکن ایک فرق کے ساتھ پاکستان میں جو ڈرامہ کھیلا گیا اس کا آغاز ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ سے ہوا۔یہ ایک گہری سازش کے مطابق اس رنگ میں ترتیب دیا گیا کہ ان کو امید تھی کہ ایسی بیہودہ حرکتوں کے نتیجہ میں ربوہ کے نو جوان مشتعل ہوں گے اور وہ ضرور جوابی کارروائی کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے نتیجے میں ملاں کو اور حکومت کو ایک بہانہ ہاتھ آ گیا فوری طور پر تمام پاکستان کے ذرائع مواصلات نے ٹیلی ویژن ، اخبارات کے ذریعہ جھوٹی خبریں سارے ملک میں مشتہر کی گئیں جو انتہائی اشتعال انگیز تھیں۔یہاں تک کہا گیا کہ اہلِ ربوہ نے معصوم نوجوان مسلمانوں کی آنکھیں نکال دی ہیں ان کے جگر چبا گئے وغیرہ وغیرہ۔عجیب و غریب قسم کی بیہودہ اشتعال انگیز باتیں سارے ملک میں مشہور ہوئیں بلکہ مجھے یاد ہے کہ ہزارہ میں تو ایک مولوی بالٹی میں بکروں کی آنکھیں لئے پھرتا تھا اور بتا رہا تھا ساتھ ساتھ کہ یہ وہ آنکھیں ہیں جو مسلمان معصوموں کی آنکھیں ہیں جو اہلِ ربوہ نے نکالی ہیں۔بالٹی بھری ہوئی آنکھوں کی وہاں پہنچ گئی تھی۔اس قسم کی جاہلانہ حرکتوں میں حکومت پوری طرح ملوث تھی اور تمام ذرائع ابلاغ اس جھوٹ کی تشہیر کر رہے تھے اور عوام الناس کو یقین دلایا جا رہا تھا کہ ربوہ میں بہت ہی بڑا ظالمانہ حملہ مسلمان طلباء پر کیا گیا ہے اور بڑی شدید قسم کی ظالمانہ کارروائی کے نتیجہ میں بہت سی جانیں خطرے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس کا لازمی اثر جو پڑنا تھا وہ یہ تھا کہ سارے ملک میں فسادات کی آگ پھیل گئی اور کثرت کے ساتھ یعنی ہزاروں کی تعداد میں احمدی دکانیں جلائی گئیں، مکانات جلائے گئے، بہت سے احمدی شہید ہوئے ، بہت ہی ظالمانہ طریق پر اس انتقامی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا جس کو حکومت کی سر پرستی حاصل تھی اور ایسی تصاویر ہمارے پاس موجود ہیں کہ حملہ ہو رہا ہے، شہید کیا جا رہا ہے احمدیوں کو ان کے گھروں کو آگ لگائی جارہی ہے اور پولیس ساتھ کھڑی ہے، مجسٹریٹ ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی نگرانی میں کارروائی ہورہی ہے۔تو غالباً ان کا یہ خیال تھا کہ اس حملے کے نتیجہ میں جگہ جگہ اشتعال پیدا ہوگا اور احمدی جوابی کارروائی کریں گے لیکن اس واقعہ سے پہلے ہی ان کو میں بار بار نصیحت کر چکا تھا کہ آپ نے صبر سے کام لینا ہے اور ان کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا۔چنانچہ ڈھا کہ میں جو واقعہ ہوا اس میں کوئی جوابی