خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 784
خطبات طاہر جلدا 784 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء میں ہمیں مصدقہ اطلاعات اس بات کی بھی ملیں کہ کویت میں رابطہ عالم اسلامی کا اڈہ ہے اور وہاں مختلف اسلامی ممالک سے ان کے مذہبی وزراء کو دعوت دے کر بعض معاملات پر جو مخفی رکھے گئے غور کرنے کے لئے بلایا گیا اُنہی معاملات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بنگلہ دیش میں بھی احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی کوششیں کی جائیں۔اُس کی اطلاعیں جب ہمیں ملیں تو میں نے جماعت بنگلہ دیش کو متنبہ کیا کہ ابھی سے تیاری کریں یہ گہری سازش ہے اور یہاں ختم ہونے والی نہیں کیونکہ اس کے پیچھے سعودی عرب کے تیل کی دولت کار فرما ہے اور دولت انسانوں کی عقلوں پر پردے ڈال دیتی ہے، دولت کی حرص انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔بنگلہ دیش ایک غریب ملک ہے اور خطرہ ہے کہ وہاں کے صدر اس حرص میں آکر ویسی ہی کارروائیاں شروع نہ کر دیں جیسے پاکستان میں کی گئی تھیں۔کچھ معاملہ آگے بڑھا کہ وہ صدر اپنے منصب سے ہٹا دیئے گئے اور دوسری حکومت برسر اقتدار آئی۔موجودہ حکومت میں بھی وہی کارروائیاں از سر نو شروع کی گئی ہیں لیکن اس دفعہ مرکز سے کویت نہیں بلکہ قرائن بتاتے ہیں کہ ایوانِ صدر پاکستان میں یہ سازشیں منتقل ہوئی ہیں اور وہاں کے وزیر مذہبی امور اس میں پوری طرح ملوث ہیں۔چنانچہ وزیر اعظم بنگلہ دیش نے جو گزشتہ پاکستان کا دورہ کیا اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کچھ فیصلے ایسے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں با قاعدہ اسی طرز پر ، اسی نہج پر ایک مہم چلائی گئی جس کا آغاز چند روز پہلے جماعت احمدیہ کے مرکز جو 4- بخشی بازار ڈھا کہ میں ہے یعنی ہیڈ کوارٹرز جس کو ہم کہتے ہیں وہاں علماء کے ایک گروہ نے اپنے چیلوں چانٹوں کے ساتھ اچانک حملہ کیا اور جتنے احمدی وہاں اس وقت موجود تھے ان کو بُری طرح زد و کوب کیا اور بعضوں کی حالت کافی دیر تک خطرے میں معلق رہی اور جان کنی کی حالت میں رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب بڑے حو صلے میں رہے اور خدا نے فضل فرمایا کہ کوئی جان ضائع نہیں گئی۔ایسی جانیں ضائع تو نہیں جایا کرتیں، جان دینے والے ہمیشہ کی زندگی پا جاتے ہیں مگر اردو محاورے کے مطابق میں کہہ رہا ہوں کہ کوئی جان ضائع نہیں گئی اور خدا کے فضل سے ان سب کو نیکیاں کمانے کے لئے ایک اور زندگی کا دور عطا کر دیا گیا ہے۔اس وحشیانہ حملے میں تمام عمارت کو ، عمارتوں کا ایک مجموعہ ہے ان کو آگ لگا دی گئی ، فرنیچر وغیرہ قیمتی چیزیں ساری اکٹھی ڈھیریاں کر کے ان کو آگئیں لگائی گئیں اور قرآن کریم کی بے حد بے حرمتی کی گئی۔ایسی تصاویر وہاں کی اخباروں میں شائع ہوئی ہیں کہ ہر قسم کے تراجم قرآن کریم کے یا بغیر تر جموں کے قرآن وہ باہر خاک