خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 770
خطبات طاہر جلدا 770 خطبه جمعه ۳۰ را کتوبر ۱۹۹۲ء ڈالا جائے تو سومن پیداوار ہو تو بہت ہی غیر معمولی پیدا وار ہوگی۔لیکن قرآن کریم نے وعدہ فرمایا ہے ایک دانہ سات سو دانوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے آئندہ جب سائنس ترقی کرے تو زمینداروں کو ایک من کے بدلے سات سومن ہونا شروع ہو جائیں۔لیکن اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے جس کے لئے چاہے اس سے زیادہ بڑھا دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں یہاں روحانی قربانی کرنے والوں کا ذکر ہے یعنی روحانی قربانی سے مراد ہے خدا کی خاطر دین کے لئے قربانی کرنے والوں کا ذکر ہے۔اُن کو خدا تعالیٰ واقعہ ایک سے سات سو نہیں بلکہ سات سو سے بعض دفعہ مزید سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔قربانیوں کے مقابل پر پھل اس کثرت سے عطا ہوتا ہے اُس کا کوئی حساب باقی نہیں رہتا۔وہ بے حساب دیتا ہے۔جماعت احمدیہ کے ساتھ اب تک جو سلوک ہے وہ ایسے ہی چلا آ رہا ہے۔ہر قربانی کے بعد خدا تعالیٰ نے توفیق بڑھائی، ہر توفیق دہرانے کے بعد نئی قربانیوں کی توفیق ملی۔نئی قربانیوں کے بعد پھر خدا نے توفیق بڑھا دی۔گویا کہ ایک جاری وساری سلسلہ ہے جس کی کوئی مثال دنیا کے پردے پر کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔تحریک جدید کے ضمن میں میرا دستور رہا ہے کہ میں موازنے کے طور پر مختلف جماعتوں کی قربانی کا ذکر کرتا ہوں تا کہ مسابقت کی روح بڑھے ایک دوسرے کو دیکھ کر جماعتوں میں آگے بڑھنے کی تحریک پیدا ہو اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان ہمیشہ صف اول میں رہا اور صف اول میں بھی پہلے درجے پر رہا ہے امسال بھی پاکستان نے یہ پوزیشن برقرار رکھی ہے اور تمام دنیا کی جماعتوں میں تحریک جدید کے چندوں میں بھی پاکستان سب سے زیادہ ہے اور تحریک جدید کے مجاہدین کی تعداد کے لحاظ سے بھی پاکستان کی جماعتیں دنیا کی جماعتوں سے آگے ہیں۔دوسرے درجے پر جرمنی آگے بڑھ رہا ہے اور بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے گزشتہ چند سال سے بعض دوسری جماعتوں نے بہت کوشش کی کہ جرمنی کو پیچھے چھوڑ جائیں لیکن اللہ کے فضل سے انہوں نے اپنا یہ اعزاز برقرار رکھا۔جرمنی نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ سال کے 1,50,945 پاؤنڈ اسٹرلنگ کے مقابل پر امسال 1,96,561 پاؤنڈ اسٹرلنگ وصولی ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑی وصولی ہے اور بہت سے ایسے ملکوں کا بوجھ جماعت جرمنی نے اٹھا لیا ہے جو جرمنی کی مدد کے محتاج ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جماعت جرمنی کو بڑا اعزاز بخشا ہے، خدا یہ اعزاز برقرار رکھے۔