خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد ۱۱ 731 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء ترقی کا راز مساجد میں ہے اور اُن مساجد میں ہے جن مساجد کو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ شرطوں کے ساتھ آباد کیا جائے۔بہت سے احمدی دوست، زائرین مجھے مبارک باد دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کینیڈا کو بہت وسیع نہیں بہت خوبصورت مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے۔میں انہیں سمجھا تا ہوں کہ مسجد کی زینت تو عبادت کرنے والوں کے دلوں کی زینت سے تعلق رکھتی ہے۔ظاہری زینت کا میں نے تو قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں پڑھا۔خانہ کعبہ جو سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ دلآویز اور دلر با مسجد ہے وہ جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے پیارے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کھنڈر سے دوبارہ تعمیر کرتے ہوئے از سر نو اُس کی تعمیر کا کام مکمل کیا تو اُس کا دیکھتے ہی نظریہ کسی نقطہ نگاہ سے بھی، کسی Archtecture View Point یعنی نقشے بنانے والوں کے نقطہ نگاہ سے اس لائق نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ اُسے دنیا میں ایک خوبصورت تعمیر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جائے لیکن وہ سب سے زیادہ حسین عمارت تھی جس پر خدا کی محبت کی نظریں پڑ رہی تھیں اور اتنے پیار سے اُس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے کہ کسی اور مسجد کا اس پیار سے ذکر نہیں ملتا۔حقیقت میں مساجد کی شان عمارت میں نہیں بلکہ اُن دلوں میں ہے جو خدا کے حضور رکوع کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہوئے اُن مساجد میں حاضر ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا خُذُوا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) دیکھو مسجدوں سے تم زینت نہیں پاؤ گے، مسجد میں تم سے زینت پائیں گی اس لئے اپنی زینشیں یعنی اپنے تقویٰ اور اپنے خلوص اور خدا کی راہ میں نچھاور ہونے کے جذبے لے کر ، روح کے رکوع اور سجدے کرتے ہوئے مساجد میں جایا کرو اور وہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔اُس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكَوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبة: ۱۸) کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو صرف وہی لوگ آباد کرتے ہیں مَنْ آمَنَ بِاللهِ