خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد ۱۱ 684 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء میں نے کہا تمیں گن لو تو کیا مسیح نا کام تھے؟ صرف یہ اعتراضی جواب نہیں تھا بلکہ میں نے اس کا فلسفہ اُن کو سمجھایا میں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ بعض دفعہ بعض تبدیلیاں دلوں اور خیالات میں رفتہ رفتہ نمودار ہونے لگتی ہیں اور آخری نتیجہ پیدا ہونے میں بہر حال وقت لگتا ہے۔اگر تین سوسال اُس واقعہ کے بعد عیسائیت نے مظلومیت کی حالت میں بسر کئے اور ایک وہ جو رومن ایمپائر تیسری صدی میں بھی بعض ایسے فیصلے ہوئے کہ عیسائیوں کو زندہ اُن کے گھروں میں جلا دیا گیا، اُن کو وحشی جانوروں کے سامنے پھینک دیا گیا اور وہ ہلاک ہوئے اور قہقہے اڑاتے ہوئے بڑے بڑے امراء اُس تماشے دیکھ کر گھروں کو جایا کرتے تھے اور دنیا سمجھ رہی تھی کہ عیسائیت نا کام ہے۔مؤرخ یہ کہتا ہے کہ تین سو سال گزرنے کے بعد آٹھویں یا نویں سال میں یا جو بھی وہ سال تھا چوتھی صدی کے آغاز میں اُس میں اچانک بادشاہ عیسائی ہوا اور ساری رومن ایمپائر عیسائی ہوگئی۔ایسا مؤرخ بہت ہی سطحی نتیجہ نکالنے والا مؤرخ ہے۔میں نے اُن کو سمجھایا کہ آپ یہ بات بھول جاتے ہیں جوں جوں صدیاں آگے بڑھ رہی تھیں اور جوں جوں عیسائیوں پر مظالم توڑے جارہے تھے۔اُن کی بے اختیاری نے بھی دل بدلنے شروع کئے ہوئے تھے، ان کی مظلومیت کی حالت میں بھی جس کو زبان نہیں تھی چاروں طرف عظیم پیغام پھیلائے جارہے تھے اور وہ اُن کی سچائی کے پیغام تھے جو خدا کی تقدیر پھیلا رہی تھی اور دلوں تک پہنچ رہی تھی ، قوم میں گہری تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھیں اور وہ تبدیلیاں تھیں جو بالآخر ایک اچانک بہت بڑے دھماکے کی صورت میں رونما ہوئی۔ورنہ قوم کا دل تیار نہ ہو تو مجال ہے کہ کوئی بادشاہ مذہب بدلے اور ساری قوم اُس کے ساتھ ہو جائے ایسے بادشاہ کو لوگ اتار پھینکیں اور اُس کا سرتن سے جدا کر دیں۔اگر اُن کے مزاج کے خلاف کوئی حرکت ہوئی۔تو میں نے اُن سے کہا کہ جو میں جس کو آپ تھوڑ اسمجھ رہے ہیں میں اُن کو تھوڑا نہیں سمجھ رہا۔میں نے طعن کے طور پر یہ بات نہیں کی۔حقیقت کے طور پر آپ کو سمجھارہا ہوں کہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے جو میں آدمی پیدا کئے تھے اُس نے تمیں انقلابی پیدا کر دیئے تھے۔ایسے انقلابی تھے جن کے انقلاب کے پیغامات صدیوں تک نہیں مرتے۔نسلاً بعد نسل اُن کے جسم مرتے چلے جاتے ہیں مگر پیغام اور زیادہ زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔لیکن احمدیت نے یہ کیا ہے اور یہاں یہ کر رہی ہے۔آپ کی آنکھوں کو دکھائی دے یا نہ