خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد ۱۱ 683 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء انسان کو اللہ تعالیٰ نے عجیب صلاحیتیں بخشی ہیں۔ایک چھوٹی سی مسکراہٹ بعض دفعہ اتنی باتیں بیان کر جاتی ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی مسکراہٹ کے انداز میں وہ کیا بات ہے جس میں بڑے بڑے مفاہیم ہوتے ہیں۔یہ بتائیں کہ مونالیزا کی مسکراہٹ آج تک ایک معمہ بنی ہوتی ہے۔ایک معمہ ہے جو آج تک فلسفی اور نفسیات کے ماہر حل نہیں کر سکے اُن کو لگتا ہے کہ عجیب سی بات ہے اس میں اور آرٹسٹ نے اُس بات کو ایسا پکڑا ہے ، ایسے رنگوں میں پکڑا ہے کہ اُسے زندہ جاوید کر دیا کہ وہ کیا ہے؟ دلوں میں کھجلی سی لگ جاتی ہے۔انسان کی عقل اور ہوش کے ناخن کریدتے ہیں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ کیا ہے؟ لیکن نہیں معلوم کر سکتے۔مسکراہٹوں میں خدا تعالیٰ نے اتنے مضامین رکھتے ہیں کہ چھوٹی سی مسکراہٹ ایک آدمی کو ذلیل ورسوا بھی کر دیتی ہے ، چھوٹی سی مسکراہٹ اُسے عظیم عظمت بخش دیتی ہے اور کیسی اُس میں تبدیلی ہوتی ہے۔کوئی انسانی علم اُس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔دیکھنے میں مسکراہٹ وہی ہے ہونٹ Artificially بھی تو بنا دیتے ہیں جب تصویر کھینچی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ چیز کہو اور چیز کہا جائے تو جبڑے پھیلتے ہیں مسکراہٹ آ جاتی ہے مگر مردہ، اس میں کوئی جان نہیں، کوئی پیغام نہیں۔ایک سطح سی ہے جو رنگ بدل دیتی ہے۔لیکن اللہ کی عجیب شان ہے کہ کیسا وہ عظیم خالق ہے انسان کے اندر اتنی بار یک لطافتیں پیدا کر دی ہیں کہ ایک مسکراہٹ کے مضمون میں بھی بڑے بڑے حکمتوں کے مضامین سمیٹ دیئے ہیں۔پس رات کو جو مسکراہٹیں میں نے دیکھیں اُنہوں نے مجھے پیغام دیا اور حقیقی پیغام تھا، کوئی فرضی پیغام نہیں تھا۔تم کیا کر رہے ہو؟ چالیس سال ہو گئے تمہیں یہاں آئے ہوئے۔گنتی کے چالیس آدمی بھی پیش نہیں کر سکتے۔کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو اس ملک میں ہم نے سنا، ہم نے سوچا، ہم نے سمجھا، ہم نے رد کر دیا اور تم ہماری آواز کو کیوں نہیں سن سکتے ؟ اس کا جواب جو میں نے اُن کو دیا وہ اپنی جگہ معقول تھا، وہ درست تھا۔وہ ان کی تاریخ کے حوالے سے درست تھا مگر وہ مطمئن ہوئے یا نہ ہوئے جو قلق دل کو لگ گئی وہ بعد میں باقی رہی۔جواب یہ تھا کہ تم سوچو کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ساری زندگی محنت کی۔اتنا عظیم انقلابی پیغمبر دنیا میں آیا اور جب صلیب دیئے گئے تو کل تھیں گنتی کے آدمی تھے۔اُن میں سے بھی ایک نے توبہ کی اور ایک نے لعنت ڈالی مگر یہ ذکر میں نے مناسب نہیں سمجھا۔