خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد ۱۱ 685 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء دے میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے فضل سے احمدیت کی وجہ سے خیالات میں پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ، اسلام کی روز بروز غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں اور یہ اثرات انمٹ ہیں کیونکہ یہ پیغام زندہ ہے، یہ پیغام جاری رہنے والا ہے اس لئے میں تو خوش ہوں۔اس لحاظ سے بعض کے اوپر میں نے اطمینان بھی دیکھا اور مسکراہٹوں کے رنگ بدلتے دیکھے لیکن وہ جو چوٹ لگا دی تھی ایک دفعہ اُس کی خلش تو پھر بھی نہ اتری۔چنانچہ میں نے مجلس عاملہ کو مخاطب کرتے ہوئے آج یہی سمجھایا کہ لمبے لیکھے تو بعد کی باتیں ہیں اگلی نسلیں دیکھیں گی مگر یہ نہ ہو کہ ہم مر رہے ہوں اور دشمن ہنس رہا ہو۔کچھ ہمیں اپنی تسکین کے لئے بھی تو چاہئے۔ہے آج دکھلا جو دکھلانا ہے دکھانے والے۔( کلام طاہر صفحہ ۱۷) یہ جب اس دور کا لیکھرام زندہ تھا یعنی جب ضیاء الحق زندہ تھے۔تو اس کے متعلق جو خدا کی تقدیر ظاہر ہوئی تھی اُس سے تھوڑا پہلے بے قراری کی حالت میں یہ دعا میرے دل سے منظوم طور پر نکلی ہے ”ہم نہ ہوں گے تو ہمیں کیا؟ کوئی کل کیا دیکھے۔اے خدا اگر آج مرنے کے بعد تو نے اس شخص کی پکڑ کی تو ہمیں کیا کوئی کیا دیکھتا ر ہے آج دکھلا جو دکھلانا ہے دکھلانے والے کیسی بے قرار تڑپ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے پھر میری آنکھوں کو وہ نظارہ دکھایا۔جو اس شعری دعا میں خدا کے حضور عرض کیا گیا تھا کہ ہمیں دکھا دے۔کل کو تو بہر حال احمدیت نے غلبہ پانا ہے، کل کو یہاں بستی بستی سے اذانوں کی آواز سنائی دے گی۔اگر آج ہم اس دنیا سے ایسے حال میں رخصت ہوں کہ ہمارے کان ان نعمتوں سے محروم چلے جائیں اور ہم نہ سن سکیں تو حید کی وہ آواز میں تو ہمیں کیا کل کوئی کیا دیکھنے والی بات ہی ہے۔ہمیں کیا تو نہیں کہ سکتے ایک انداز ہے یہ خدا کا دل پھیجنے کے لئے بعض دفعہ انسان نخرے بھی کرتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کل بھی ہو تو ہمیں ہی ہے ہم پر یہ اللہ ک احسان ہے کہ ہماری نسلیں وہ چیز دیکھ لیں گی۔مگر ہالینڈ کی جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ یہ جذبہ پیدا کریں اپنے اندر کہ ہم بھی تو اپنی آنکھوں سے کچھ ہوتا دیکھیں اور وہ بھی ممکن ہے کہ ہر شخص کے اندر ایک داعی الی اللہ جاگ اٹھے۔وہ خود اُس کا نگران بن جائے۔ہر انسان اپنے اعمال کی خود نگرانی کرے اور بے چینی محسوس کرے اور جب تک اُسے کوئی ایسا پھل نہ ملے جو بالآخر پک کر اسلام کی جھولی میں آگرے اور اُسے دوام بخشا جائے ، وہ گلنے سڑنے کی بجائے وہ ہمیشہ کے لئے دوام اختیار کر جائے اُس وقت تک چین سے نہ بیٹھے۔