خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 682
خطبات طاہر جلد ۱۱ 682 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء کریں یا نہ کریں کیونکہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ آئرلینڈ کے مزاج میں بہت خوبیاں ہیں۔بعض ایسی خوبیاں بھی ہیں جو انگریز میں نہیں ہیں۔اُن میں سادگی ہے ، اُن میں کھلے دل کے ساتھ مہمان نوازی کرنا، بہت سی خوبیاں ہیں لیکن ان کی بعض مجبوریاں اور بے اختیاریاں ہیں اور اُن کی سستیاں اور اُن کی غفلتیں بہت حد تک حالات کی مرہون منت ہیں۔مگر ہالینڈ کے متعلق میں بل مارک کے ریمارکس سے پورا اتفاق کرتا ہوں خدا تعالیٰ نے اس قوم کو عظیم صلاحیتیں بخشی ہیں۔انہوں نے رونا نہیں رویا ، ہاتھ نہیں پھیلائے۔دوسری قوموں کی طرف نہیں بھاگے کہ ہم غرق ہور ہے ہیں پانی میں ہماری مدد کرو۔باہر سے اپنے آلات لاؤ اور ہمارے لئے کچھ کر کے دکھاؤ۔خود اٹھے ہیں اور جینے کا سلیقہ سیکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے پھر ان کی مدد فرمائی ہے۔یہاں کے لوگ جو ہالینڈش ہیں اُن کو یہی چیلنج اسلام کے لئے بھی تو قبول کرنا چاہئے اور وہ لوگ جو باہر سے آ کر آباد ہوئے ہیں۔اُن کو بھی تو ہالینڈ سے جینے کا سلیقہ سیکھ کر ، اسلام کے لئے یہاں محنت کرنی چاہئے ، اگر سمندروں کو یہ قوم شکست دے سکتی ہے تو یقیناً انسانی طغیانیاں جو بغاوت کی طغیانیاں ہیں، انسانی طغیانیاں جو مادہ پرستی اور بدکرداری کی طغیانیاں ہیں اُن کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔اُن کے سامنے بھی اعلیٰ اخلاق کے عظیم بند بنائے جاسکتے ہیں اور محنت کی جاسکتی ہے، ہر مخالف حالات پر انسان کے اندر غلبہ پانے کی مخفی صلاحیتیں ہیں اُن کو بروئے کار لانا چاہئے۔اس چیلنج کا مجھے بشدت احساس رات کی مجلس سے ہوا۔رات کی مجلس میں ایک سوال کیا گیا کہ کیا آپ اب تک احمدی مبلغین یا احمدیوں کی ہالینڈ میں کوششوں سے جو نتائج نکلے ہیں اُن سے مطمئن ہیں اور اس سوال کے ساتھ ہی جو میری نظر چہروں پر پڑی تو ایک عجیب قسم کی دبی دبی مسکراہٹیں سب چہروں پر تھیں۔ہر چہرہ مسکرارہا تھا اُن میں یہ پیغام تھا کہ آپ دلائل جو مرضی دیتے رہیں۔بیعتوں کے میدان میں شکست دے سکتے ہیں دے دیں بے شک لیکن کیا کریں گے اگر آپ کی ساری عمر کی محنتیں ، ساری عمر کی جستجو بے کار جائے اور بہرے کانوں پر پڑے اور کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو۔کیا فائدہ اس کا؟ کیا ضرورت ہے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کی ؟ چھوڑمیں اس کو کہیں اور جا کر بیٹھ جاتے اور کسی جگہ چلے جاتے جو جلدی آپ کی باتیں سن لیں۔محنت کا بدلہ دیں یہ ساری باتیں آپ تعجب کریں گے لیکن واقعہ درست ہیں ان کے چہروں پر لکھی ہوئی ہیں۔