خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد ۱۱ 575 خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۹۲ء ان کے سائبان ہیں جو خدا کے فضلوں کو روک سکتے ہوں؟ اب تو یہ حکایت عام ہورہی ہے۔اب تو ان کے لئے یہ ہی ہے کہ تھے تو سنتا جا تو شرماتا جا“ تمہاری کوششوں کے برعکس نتیجے پیدا کئے ہیں اور ایسے برعکس نتیجے کہ ہمارے تصور میں بھی نہیں تھے اس لئے اپنی طرف سے تو میں نے تمہیں یہی نصیحت کی تھی کہ رک جاؤ مگر اب میں سوچتا ہوں کہ اگر رک جاتے تو پھر اللہ کا فضل ہوا وہ نہیں رکے جو کچھ تمہارا زور ہے کرتے چلے جاؤ جتنی طاقت ہے، جتنی بساط ہے جس طرح قرآن کریم نے شیطان کو یہ چیلنج دیا تھا کہ اپنا لشکر دوڑ الا ؤ ، اپنے گھوڑے چڑھالا ؤ لیکن میرے بندوں پر تمہیں غلبہ نصیب نہیں ہوگا ، جو طاقتیں ہیں بروئے کار لاؤ۔خدا کی قسم تمہیں کبھی غلبہ نصیب نہیں ہوگا کیونکہ خدا کے بندوں پر غیر اللہ کوغلبہ نصیب ہونا ممکن ہی نہیں۔ان کے مقدر کی بات نہیں۔پس آج اس خطبہ میں سب سے پہلے تو میں پاکستان کے اپنے بھائیوں اور بہنوں اور بچوں کو اپنی طرف سے اور تمام حاضرین جمعہ کی طرف سے نہایت محبت بھرا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ کا تحفہ پہنچا تا ہوں اور دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔پھر ہندوستان میں جو سننے والے ہیں ان کو بھی بنگلہ دیش میں بھی ، انڈونیشیا میں بھی اور جاپان میں بھی اور آسٹریلیا میں بھی اور افریقہ کے مختلف ممالک میں بھی ، جو لوگ اس وقت اس خطبہ میں آواز اور تصویر کے ذریعہ حاضر ہیں ان سب کو میری طرف سے اور تمام حاضرین جمعہ کی طرف سے نہایت محبت بھر اسلام اور دعاؤں کے تھنے ہیں جو ہم آپ کے حضور پیش کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ چوہدری محمد علی صاحب کی ایک نظم الفضل میں چھپی تھی اس کا ایک شعر نام لئے بغیر دراصل مجھے ذہن میں رکھ کر کہا گیا تھا اور وہ بات کھلی کھلی ظاہر و باہر تھی وہ شعر تھا کہ کبھی تو اس سے ملاقات ہوگی جلسے پر کبھی تو آئے گا وہ وصل کے مہینوں میں (اشکوں کے چراغ صفحہ: ۱۸) میں تو اُن کو بتاتا ہوں کہ اب تو ہر ہفتے جلسے ہوا کریں گے اور وصل کے مہینوں کا انتظار نہیں وصل کے ، ہفتوں کا انتظار ہے جواب جاری ہو گیا اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ بات پھیلتے پھیلتے اب امریکہ تک بھی جاپہنچے گی اور کینیڈا تک بھی اور کل عالم پر