خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 576
خطبات طاہر جلدا 576 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی آواز محیط ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ کا یہ کلام بڑی شان کے ساتھ پورا ہوگا۔میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ ( تذکرہ: ۲۶۰) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ادنی غلام کو یہ توفیق ملی ہے آئندہ آنے والے بھی اس الہام کی برکت سے براہ راست تمام دنیا کو مخاطب ہوا کریں گے اور زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز سنی جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے اس کے احسانات ہیں اتنے کہ ہم ان کو گن نہیں سکتے ، اتنے کہ ساری زندگیاں بھی خدا کے حضور قربان کر دیں تو ان کے شکر ادا نہیں ہو سکتے، اللہ تعالیٰ ہمیں شکر گزار بندے بنائے اور ناشکرا نہ بنائے کیونکہ اگر ہم شکر گزار بندے بن جائیں تو جو احسان ہم گن نہیں سکتے ان میں سے ہر احسان پھر نشو ونما پائے گا ہر احسان کو پھر بکثرت پھل لگیں گے اور اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا سلسلہ لامتناہی ہو جائے گا۔پس شکر گزار بندوں کا یہ انعام مقدر ہے جو آنحضرت ﷺ کو عطا ہوا اور آپ کے فیض سے ہم سب تک پہنچا کہ لَبِنُ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم: ۸) اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور بڑھاؤں گا اور ضرور بڑھاؤں گا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اب خدا کے جو فیض ہم پر نازل ہو رہے ہیں انہوں نے تو بڑھنا ہی بڑھنا ہے اور پھیلنا ہی پھیلنا ہے پھولنا اور پھلنا ہے۔تمام دنیا میں یہ بات پھیلتی جائے گی اس لئے جماعت احمدیہ کو ان ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے جو خدا کے فضلوں کے نتیجہ میں ہم پر عائد ہوئی ہیں اپنی زندگیوں میں جہاں تک ممکن ہوروحانی انقلاب برپا کرنے چاہئیں یہی وجہ ہے کہ میں نے تبتل الی اللہ کا مضمون بیان کرنا شروع کیا اور جماعت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تک غیر اللہ سے کٹ کر خدا کے نہیں ہو جاتے یا غیر اللہ سے کٹنے کا سلسلہ شروع نہیں کر دیتے اس وقت تک ہمارے سارے کام حقیقت میں خدا نہیں بنائے گا کچھ کام ایسے ہوں گے جن میں ہم خدا کی بجائے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہوں گے وہ کام تو خدا نہیں بنائے گا۔خدا وہی کام بنایا کرتا ہے جن میں تمام تر تو کل اور انحصار انسان خدا کی ذات پر ہی کرے۔پھر تبتل کا یہ معنی ہے کہ دنیا سے اپنی امید میں، اپنی حرصیں اپنے خوف ، اپنی طمعیں کاٹ