خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 574

خطبات طاہر جلدا 574 خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۹۲ء میں (Solomon Island) تک بھی یہ تصویر پہنچ رہی ہے اور آواز جارہی ہے لیکن غالباً ابھی وہاں مناسب ڈش لگانے کا انتظام نہیں ہو سکا لیکن جوں جوں یہ بات پھیلتی چلی جائے گی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں جماعتوں میں بھی براہ راست خطبہ سننے کا شوق بڑھتا۔جائے گا اور ذرائع مہیا ہوتے چلے جائیں گے اور انفرادی طور پر بھی انشاء اللہ تعالیٰ کثرت کے ساتھ وہ خواتین اور بچے جو جمعہ پر نہیں جاسکتے اور وہ مرد بھی جن کے ہاں جمعہ کا وقت نہیں ہو گا گھر میں بیٹھ کر خطبات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔پاکستان میں اس وقت پانچ بجکر پینتالیس منٹ کے قریب ہوں گے کیونکہ چار گھنٹے کا فرق ہے ہندوستان میں چھ بجے ہوں گے بنگلہ دیش میں ساڑھے چھ اور انڈونیشیا میں ساڑھے سات اور جاپان میں رات کے ساڑھے نو اور آسٹریلیا میں ساڑھے دس اور Solomon Island میں ساڑھے گیارہ۔افریقہ میں مختلف وقت ہیں۔اس وقت گیمبیا اور مغربی افریقہ ہم سے ایک گھنٹہ پیچھے ہیں ویسے تو دونوں کا ایک ہی وقت لیکن چونکہ یہاں گرمیوں میں وقت آگے بڑھا دیا جاتا ہے اس لئے وہاں اس وقت دن کے پونے ایک کا وقت ہوگا اور مشرقی افریقہ میں تین گھنٹے آگے ہے جس کا مطلب ہے کہ وہاں پونے پانچ کا وقت ہوگا تو مختلف وقت میں لیکن خطبہ ایک ہی رہے، آواز ایک ہی ہے ، تصویر ایک ہے اور اللہ تعالیٰ نے کل عالم میں یہ عجیب انتظام مہیا فرما دیئے ہیں۔مولویوں کو پاکستان میں میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ احمدیوں کے رستے نہ رو کو تمہیں نقصان ہوگا اور خطبات میں خوب کھول کر بیان کیا تھا کہ تم ایک رستہ روکو گے تو خدا بیسیوں رہتے اور کھول دے گا اور اگر زمینی بند کرو گے تو آسمان سے کثرت سے فضل نازل ہوں گے کہ تم کسی زور کسی برتے پر اور کسی طاقت سے ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکو گے اس لئے برکار کی کوشش ہے کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو، اپنا پیسہ ضائع کرتے ہو، خدا کا غضب کماتے ہو اور فائدہ کچھ بھی نہیں۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اُن سے کہا تھا کہ جب آسمان سے جماعت پر فضلوں کی بارشیں نازل ہوں گی تو کیا تمہاری چھتریاں اور سائبان ان بارشوں کو روک سکیں گے۔وہ رحمتوں کے بادل جو افق تا افق پھیلے ہوں اور رحمتوں کے وہ بادل جو آج چار براعظموں تک پھیل چکے ہیں اور خدا کے فضلوں کی بارشیں برسا رہے ہیں کہاں ہے وہ دنیا کا مولوی جو اس کی راہ میں حائل ہو سکے ؟ کون سی اُن کی چھتریاں ہیں، کون سے