خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 566
خطبات طاہر جلد ۱۱ 566 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء سے انسان کو سب سے زیادہ تعلق جھوٹ سے ہے۔تو بہت بڑا شرک ہے اس سے توبہ کی جائے اور اگر ہم نے کوشش نہ کی اور غیر معمولی جہاد نہ کیا اور پوری توجہ اور دعا کے ساتھ جھوٹ کے ازالے کی کوشش نہ کی تو آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ ہماری سوسائٹی میں جو نیکیوں کی سوسائٹی ہے اس میں بھی جھوٹ نے کتنی کتنی جڑیں جمائی ہوئی ہیں اور کن کن جگہوں میں یہ بت پوشیدہ ہے۔اس کو تو ننگا کر کے نکالنا پڑے گا۔جڑوں کو بھی کھود کھود کر اسے باہر نکالنا پڑے گا۔اس کے لئے سب سے اچھا طریق یہ ہے کہ اپنی عادت بنالیں کہ جب کوئی نیت جنم لینے لگے، کوئی خیال پیدا ہو، کسی کے پاس جارہے ہیں، اس کے سامنے کوئی بات کرنی ہے تو اُس وقت اپنی سوچ کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں اُتریں اور سوچ کی آخری جڑ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔جس وقت یہ سوچ پیدا ہو رہی ہوتی ہے تو وہ تازہ تازہ وقت وہ ہے کہ اس کے قدموں کے نشان ملتے ہیں اور اُن قدموں کے نشانوں کی پیروی میں کھوج لگاتے ہوئے آپ اُس کے آخری کنارے تک پہنچ سکتے ہیں۔جب یہ سوچ پختہ ہو چکی ہویا آگے کسی بدی کو پیدا کر چکی ہو تو پھر وقت ہاتھ سے گزر چکا ہے۔پھر آپ اس کی پیروی نہیں کر سکتے۔پس یہ عادت ڈالیں کہ جو بھی بات ہو اُس کی اُس سوچ کا تجزیہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہونگے کہ روزمرہ کی بالکل معصوم باتوں میں بھی نفس کو جھوٹے بہانے بنانے کی عادت ہے۔روز مرہ کی ملاقات میں ہی ایسی باتیں کر جاتا ہے جو بالکل کھو کھلی ہوتی ہیں اور بے معنی ہیں جن کا سچ سے کوئی تعلق نہیں۔پس اگر انسان کو عادت ہو اس کا سراغ لگائے اور واپس پہنچے کے میں نے یہ بات کیوں کر دی تھی۔یہ جو فلاں صاحب رستے میں ملے تھے میں نے ان کو یہ کہہ دیا اور اکثر باتیں اس لئے کہیں ہیں کہ میں اُن کے سامنے اور زیادہ اچھا بنوں اور اچھا بننے کے شوق میں بہت سی جگہ جھوٹ کے سہارے لئے جاتے ہیں۔پس انسان کو جب تک جھوٹ کی تلاش کی عادت نہ ہو یعنی جھوٹ کی نیتوں کی جڑوں تک پہنچنے کی عادت نہ ہو تو وہ حقیقت میں جھوٹ پر غلبہ نہیں پاسکتا۔وہی نکتہ بنیادی نکتہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ خبر دار شیطان تم پر ایسی جگہوں سے حملے کرے گا جہاں سے تم اُس کو نہیں دیکھ سکتے۔یہ مراد نہیں ہے کہ کوشش بھی کرو گے تو نہیں دیکھ سکتے اگر یہ مراد ہوتی تو کوئی نیک انسان بھی شیطان کے حملے سے امن میں نہ ہوتا مگر ساتھ یہ بھی تو فرما دیا کہ اے شیطان تجھ کو میرے بندوں پر غلبہ نصیب نہیں ہوگا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دیکھتے بھی ہیں، جانتے بھی