خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 565

خطبات طاہر جلد ۱۱ 565 خطبه جمعه ۱۴ را گست ۱۹۹۲ء ہیں۔میں نے کہا مجھے نام بتاؤ۔ایک آدمی کا نام بتاؤ کس نے بات کی ہے تو شکایت کرنے والے نے کہا کہ جی لوگ عام باتیں کر رہے ہیں میں نے کہا تم نے کسی سے بات سنی ہے یا فرشتے ہوا میں باتیں کرتے ہیں یا جن ہیں جو یہ تذکرے کر رہے ہیں۔عام باتیں کر رہے ہیں تو کسی ایک کا نام بتاؤ لیکن کوئی نام نہیں نکلا۔اصل میں دل کی باتیں ہیں وہاں سے اُچھلتی ہیں تو بغض کے نتیجہ میں انسان اس بات کا بھی محتاج نہیں ہے کہ کسی سے سن کر آگے بات کرے اپنے دل میں جو خیالات پیدا ہو جاتے ہیں ان کو ہی انسان دوسروں کی طرف منسوب کر کے پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس مجلس میں اتفاق سے کوئی سود وسو آدمی اور بھی تھے۔چنانچہ ان سے میں نے سوال کیا۔میں نے کہا اچھا اس کو میں چھوڑ دیتا ہوں۔آپ بتائیں کہ آپ میں سے کسی ایک نے یہ بات کہی ہے یا یہ بات سنی ہے تو سو فیصدی نے انکار کیا۔انہوں نے کہا ہم بھی تو ساتھ رہے ہیں نہ ہم میں سے کسی نے کہی نہ ہم میں سے کسی نے سنی تبھی کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا جھوٹا ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے وہ سنتا ہے اور بات کو آگے چلا دیتا ہے۔ایسی بیہودہ عادت پھر یہ بات چسکے کی بھی ہے۔اگر انسان کو آپ کچھ حاصل نہ ہو تو دوسرے کو نیچا دکھانے میں اس کو ایک مزہ ملتا ہے۔انسانی فطرت ہے کہ میں اونچا ہوں تو جن بیچاروں کو اونچا ہونا نہ آتا ہو وہ دوسرے کا سر نیچا کر کے اُونچا ہو جاتے ہیں۔تالاب میں بعض لڑکے دوسرے کو ہاتھ مار کر بھی ڈبو دیا کرتے تھے۔یہ بھی ایک فخر ہے تو جو تو میں بریکار ہو جائیں ہکتی ہو جائیں، جہاں جھوٹ کی عادت ہو، بیہودہ باتیں ہوں وہاں یہ روزمرہ کی عادتیں ہیں کہ باتیں سنیں اور آگے چلائیں اور پھر اس بات پر بڑے چسکے لئے اور اس کی ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ بعض بدیاں ایسی ہیں جن کے پھیلانے میں لوگوں کو مزہ ملتا ہے اور اس لئے پھیلاتے ہیں تا کہ لوگوں میں یہ بات ہو کہ کوئی حرج نہیں۔فلاں بھی اس طرح کرتا ہے ہم بھی کر لیں تو کیا حرج ہے۔تو اپنی بدیوں کے رجحان کو تقویت دینے کے لئے بعض لوگ سنی سنائی بات اگر اچھے لوگوں کی طرف منسوب ہوں تو وہ فوراً اخذ کرتے ہیں اور آگے چلا دیتے ہیں تو ایک جھوٹ ہے جو چار ماؤں کا بچہ ہے اور آگے پھر بڑے ناپاک بچے پیدا کرے گا۔جھوٹ کے اوپر بھی گند ہے نیچے بھی گند ہے۔ایسی غلیظ چیز ہے اور قرآن کریم نے جب اس کو نجس کے ساتھ ملایا تو بہت ہی خوب ملایا۔نہایت ناپاک چیز ہے۔گندے ماں باپ کی اولاد اور گندے بچے پیدا کرنے والا اور بدنصیبی