خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 556
خطبات طاہر جلد ۱۱ 556 خطبه جمعه ۱۴ را گست ۱۹۹۲ء میں سیاست کے لحاظ سے صاف ستھرے ہیں اور قوم کے سامنے جوابدہ ہیں ، غیروں کے معاملے میں ان کی سیاست سراسر جھوٹی ہو جاتی ہے، ان کے بہانے جھوٹے ،اُن کے نظریات جھوٹے ، جو عذر رکھ کر وہ غیروں پر حملے کرتے ہیں وہ جھوٹے جو عذر رکھ کر حملے نہیں کرتے وہ جھوٹے۔اب آپ کے گلف کے پس منظر ہیں، بوسنیا کے حالات کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ مغربی دنیا کا رد عمل ان دونوں میں کتنا مختلف اور کتنا جھوٹا ہے۔وہاں ایک کرد کوکوئی تکلیف پہنچتی تھی تو آگ بگولہ ہو جاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کردوں پر ظلم ہو رہے ہوں اور انگلستان خاموش رہے اور امریکہ خاموش رہے۔ہمیں چاہے طاقت استعمال کرنی پڑے جو چاہے ہم کریں گے ان مظلوموں پر ظلم ہوتا نہیں دیکھ سکتے اور اُدھر بوسنیا کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو با قاعدہ منظم سازش کے طور پر صرف مظالم کا نشانہ نہیں بنایا جارہا بلکہ سکیم یہ ہے کہ اس خطے سے مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے اور جب کہا جائے کہ یہاں طاقت کا استعمال کیوں نہیں کرتے تو اول تو تاخیر کے بہانے بہت تھے۔اب یہ عذر پیش کیا جا رہا ہے کہ ہم ایک اور ویٹ نام نہیں بنانا چاہتے۔کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم ایک اور ویٹ نام بنا دیں۔صدام حسین کے اوپر ہاتھ ڈالنے میں بڑی جرأت کی گئی تھی باوجود اس کے کہ کہا یہ جاتا تھا کہ صدام حسین اتنی بڑی طاقت بن چکا ہے کہ اس کو دیکھ کر جرمنی کا ہٹلر یاد آتا ہے اور عراق ہٹلر کا جرمنی بن چکا ہے۔وہاں کوئی خوف نہیں تھا لیکن یوگوسلاویہ سے تعلق رکھنے والا وہ نسلی گروہ جس نے بوسنیا کے مسلمانوں پر ظلم شروع کئے ہیں یہ دراصل اس کی حمایت نہیں ہے بلکہ اسلام کے ساتھ بغض ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہے اور عذر یہ تراشا جارہا ہے کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ یہاں ایک ویٹ نام بن جائے ایک اور لمبی جنگ شروع ہو جائے حالانکہ وہ شخص جس کو تاریخ حاضرہ کی معمولی سی بھی محمد بد ہویا سیاست سے ذرہ بھی آگا ہی ہو وہ جانتا ہے کہ ویٹ نام اس لئے بنا تھا کہ اس کے پیچھے روس اور چین کی طاقتیں تھیں اور خصوص روس نے غیر معمولی طور پر ویٹ نام کو ہر قسم کے اسلحے مہیا کئے اور طاقت دی ان کی رہنمائی کی وہاں جنگی مشقیں کروائی گئیں۔ان کو گوریلا وارفیئر کی ٹریننگ دی گئی بہت ہی غیر معمولی طور پر بیرونی مدد اور بیرونی تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں ویٹ نام بنا تھا۔آج جبکہ روس ان مغربی طاقتوں کے ساتھ مل چکا ہے آج جبکہ چین کی کوئی طاقت ہی نہیں رہی کہ وہ علیحدہ اپنی مرضی سے کسی ملک میں کوئی فساد بر پا کر سکے تو یوگوسلاویہ جیسے ملک کی مجال کیا ہے