خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 555

خطبات طاہر جلد ۱۱ 555 خطبه جمعه ۱۴ / اگست ۱۹۹۲ء کرنا چاہتا ہوں وہ قولَ النُّورِ سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ میرے گزشتہ خطبے کا تعلق جھوٹ سے تھا اور میں نے بیان کیا تھا کہ میں آئندہ خطبے میں بھی انشاء اللہ دوبارہ اسی موضوع پر مزید روشنی ڈالوں گا۔لیکن اس آیت کے تعلق میں ایک اور بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ حُرمتِ اللہ جو ہیں وہ دو طرح کی ہیں ایک وہ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے معزز ٹھہرایا ہو جیسے بیت اللہ جسے بیت الحرام کہا جاتا ہے اس کے متعلق فرمایا وَ مَنْ تُعَظمُ حُرمتِ اللهِ وہ حرمت والی جگہیں وہ ہیں جن کی تعظیم کرنی ضروری ہے اور ایک لفظ حرام مکروہ چیز پر بھی صادق آتا ہے ان کو حرمات اللہ تو نہیں کہا جاتا مگر حرام چیزمیں قرار دیا جاتا ہے جس کے مقابل پر لفظ حلال ہے۔تو قرآن کریم نے یہاں دونوں چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ایک وہ حُرمتِ اللہ کہ جن کی تعظیم کا اللہ حکم دیتا ہے جیسے شعائر ہیں انبیاء ہیں، انبیاء کے رہنے کے مقامات ہیں، عبادت گاہیں ہیں یہ سب حُرمتِ اللهِ ہیں ان سب کی تعظیم ضروری ہے اور ایک وہ حرام چیزیں ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔ان حرام چیزوں میں دو چیزوں کو اکٹھا کر فرمایا گیا ہے۔ایک شرک کا اور ایک جھوٹ کا جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں اس مضمون کو کھولا تھا۔در حقیقت جھوٹ اور شرک ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور آپ اس مضمون پر جتنا بھی غور کریں گے اتنی ہی بات کھلتی چلی جائے گی کہ خدا کے بعد سب سے بڑا بت جس کی پرستش کی جاتی ہے وہ جھوٹ ہے۔وہ بت جن کو پتھر سے بنایا جاتا تھا یا لکڑی یا لوہے تانبے سے گھڑا جاتا تھا وہ بت تو کسی زمانے میں پوجے جاتے تھے۔اب تو سب سے بڑے مشرک ممالک میں بھی گنتی کے چند ہیں جو اُن بتوں کی پرستش کرتے ہیں ورنہ بڑی بھاری اکثریت ہے جو اُن کے نام سے بھی نا آشنا ہے کبھی مندر کی طرف منہ نہیں کیا۔ساری زندگیاں دنیا کی پیروی میں ہی کٹ گئی ہیں۔پس وہ بت تو اب بہت شاذ کے طور پر دنیا میں رہ گئے ہیں۔جن کی واقعہ پرستش کی جارہی ہو لیکن جھوٹ کا بت ایسا ہے کہ دنیا کے ہر براعظم میں، ہر ملک میں، ہر شہر میں ، ہر قصبے میں بڑی بڑی سلطنتیں ہوں یا چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوں ، بڑی بڑی اقتصادی بادشاہتیں ہوں ، یا غریب کی تجارتیں ہوں ہر جگہ جھوٹ ہی جھوٹ ہے اور اس کثرت سے جھوٹ کی عبادت کی جاتی ہے کہ شاذ ہی دنیا پر بھی یہ دور آیا ہو کہ جھوٹ کی ایسی عبادت کی جاتی ہو۔وہ لوگ جو بظاہر بچے ہیں جو روز مرہ کے معاملات میں سچے ہیں وہ لوگ جو اپنے ملک