خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 557

خطبات طاہر جلدا 557 خطبه جمعه ۱۴ را گست ۱۹۹۲ء کہ وہ بڑی طاقتوں کے مقابل پر سر اُٹھا سکے۔چاروں طرف سے وہ ایسی ریاستوں میں گھرا پڑا ہے جن میں سے کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر سکتی لیکن ان کی طرف سے آپ ایسے ایسے عجیب عذرسنیں گے که عقل دنگ رہ جاتی ہے اور عوام الناس کا یہ حال ہے کہ وہ ان کو قبول کئے چلے جاتے ہیں۔پس ہر بات جھوٹ ہو چکی ہے اور بوسنیا کا جو معاملہ ہے اس کے پیچھے دراصل اسلام دشمنی ہے۔میں اسے اس طرح دیکھ رہا ہوں کہ گزشتہ تاریخ میں یورپ میں ترکی نے ایک کردار ادا کیا اور کئی یورپین ریاستوں پر ایک لمبے عرصہ تک اسلام کا غلبہ رہا اور ان طاقتوں کے ٹوٹنے کے باوجود بھی بعض علاقوں میں مسلمانوں کی بھاری تعداد موجود رہی لیکن آزادریاست کے طور پر ایک بوسنیا تھی جو بھاری مسلم اکثریت کی تھی اور یورپین تھی اور آزاد تھی اور اب اس کو دوبارہ اس کو وہی پہلی سی سیاسی طاقت کے طور پر قبول کیا لیکن یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یورپ میں اسلام کا کوئی دخل رہ جائے ، یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یورپ میں کسی وقت ترکی کو پھر دخل اندازی کا موقع فراہم کیا جائے۔پس یہ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے یہ عیسائیت کے حق میں نہیں ہے بلکہ اسلام کی دشمنی ہے دہریوں کو بھی اسلام سے دشمنی ہے، یہود کو بھی اسلام سے دشمنی ہے۔عیسائیوں کو بھی اسلام سے دشمنی ہے یہ بغض معاویہ ہے حُبّ علی نہیں ہے۔پس اس کی خاطر جتنے چاہو جھوٹے بہانے بنالو اور ساری قوم قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے، ساری مغربی دنیا یا وہ مشرقی دنیا جوان کے تابع فرمان ہے وہ ان کو قبول کئے چلی جاتی ہے اور مسلمان بے چارے کو کوئی ہوش ہی نہیں ہے۔مسلمان سیاست دان آگے سے ایسی لغو باتیں کرتا ہے کہ اس سے بھی طبیعت میں کراہت پیدا ہوتی ہے اور سخت تکلیف پہنچتی ہے کہ مدد تم کیسے کر سکتے ہو جن قوموں نے یہ ظلم کیا ہے ان کا ساتھ چھوڑنے کو تو تم میں جان نہیں ، طاقت نہیں ہے، مجال نہیں ہے کہ اُن سے اپنے تعلقات تو ڑو یا ان کو اقتصادی(Retaliation) رو عمل کی دھمکی دے دو یا اس حد تک ہی دو جس حد تک تم کر سکتے ہو یہ تو کسی کو توفیق نہیں ہے کہ با قاعدہ منصوبہ بنا کر اتنی بات کرے جو کچی ہو جس پر عمل درآمد کی توفیق ہو اور غیر دنیا یہ سمجھ لے کہ اسلامی دنیا اس چیز کو برداشت نہیں کرے گی۔اس کی بجائے بیان یہ دیے جارہے ہیں مثلاً پاکستان یہ کہتا ہے کہ ہم فوج بھیجنے کے لئے تیار ہیں۔جماعت اسلامی کا دعوی ہوتا ہے کہ چلورضا کار بھرتی کرو اور وہاں بھجواؤ۔پاگل پن ہے، کون سے رضا کار؟ کیسے پہنچیں ؟ کسی میں طاقت ہے؟ کس کی مجال ہے کہ ان معاملات